امیت شاہ کے احکام کے بغیر طلباء کا خون نہیں بہایا جاسکتا تھا ۔ سی جے پی بانی کا بیان
نئی دہلی 30 جولائی ( ایجنسیز ) کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے بھی آج مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے استعفے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے الزام عادء کیا کہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران طلباء و نوجوانوں پر جو پولیس مظالم ڈھائے گئے تھے اور جو کارروائیاں کی گئی تھیں وہ وزیر داخلہ کی ہدایت پر کی گئی تھیں۔ ڈپکے نے مہاراشٹرا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طلباء پر حملے کئے گئے اور جس طرح سے احتجاجیوں کا خون بہایا گیا ہے وہ امیت شاہ کے احکام کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا تھا ۔ واضح رہے کہ ایک دن قبل قائد اپوزٔیشن راہول گاندھی نے بھی امیت شاہ پر طلباء و نوجوانوں کے خلاف کارروائی کا حکم دینے کا الزام عادء کیا تھا اور کہا تھا کہ امیت شاہ کو اس پر استعفی دینا چاہئے ۔ ابھیجیت ڈپکے نے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر راہول گاندھی کے خیال سے اتفاق کرتے ہیں اور ان کا بھی ماننا ہے کہ امیت شاہ کو بھی استعفی دینا چاہئے ۔ ابھیجیت ڈپکے نے اس الزام کی تردید کی کہ سی جے پی کو بیرونی فنڈز حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم کو بیرونی فنڈز ملتے ہیں اور وزارت داخلہ کی ذمہ داری امیت شاہ کے پاس ہے تو پھر یہ ان کی ناکامی ہے ۔ وہ پھر کس طرح کے چانکیہ ہیں۔ اگر ہم کو بیرونی فنڈز ملے ہیں تب بھی امیت شاہ کو استعفی دینا چاہئے ۔ ڈپکے نے الزام عائد کیا کہ دہلی پولیس نے اپنی کارروائیوں کا جواز پیش کرنے سنگباری کروائی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے ٹرکس میں بھر کر پتھر منگوائے تھے اور ایک گاڑی کو نقصان پہونچایا تھا تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ تشدد کے جواب میں پولیس نے کارروائی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس نے سنگباری کروائی ہے ۔ بی جے پی کے غنڈے آئے ‘ انہوں نے سنگباری کی اور طلباء کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے ۔