طلبہ کی مکمل نیند کیلئے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی کا مطالبہ

   

ممبئی: ایک جرأتمندانہ اقدام میں مہاراشٹرا کے گورنر رمیش بیس نے منگل کو تعلیمی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اسکولوں کے اوقات کو تبدیل کرنے پر غور کریں جس سے طلباء کو کافی نیند مل سکے۔ گورنر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہر ایک کی نیند کا انداز بدل گیا ہے، خاص طور پر بچے جو آدھی رات کے بعد ہی سوتے ہیں لیکن انہیں اسکول جانے کے لیے جلدی جاگنا ضروری ہے، اس طرح وہ اپنے کم سے کم نیند کی مقدار سے محروم ہو رہے ہیں۔ اس پس منظر میں انہوں نے اسکولوں اور تعلیمی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پہلو پر غور کریں اس کے علاوہ بک لیس اسکولوں، ای کلاسز کو فروغ دیں اور اسکولوں کو ان کے معیار کے مطابق درجہ بندی کریں تاکہ طلبہ برادری پر تعلیم کا بوجھ ہلکا کیا جاسکے۔گورنر راج بھون میں وزیر اعلیٰ ایکناتھ شنڈے، وزراء دیپک کیسرکر، منگل پربھات لودھا اور گریش مہاجن کے علاوہ پرنسپل سکریٹری تعلیم رنجیت سنگھ دیول اور دیگر معززین کی موجودگی میں محکمہ سکول ایجوکیشن کے مختلف اقدامات کے آغاز کے موقع پر بات کر رہے تھے۔ گورنر اور وزیر اعلیٰ نے مشترکہ طور پر میرا اسکول، خوبصورت اسکول،کہانی سنانے والے ہفتہ، ‘انجوائے ایبل ریڈنگ، اسکول کی سرگرمی کو اپنانے، میرا اسکول، مائی بیک یارڈ، اور صفائی مانیٹر جیسے اقدامات کا آغاز کیا۔ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام اسکول کی نئی عمارتوں کا افتتاح کرتے ہوئے یہ اقدامات ہوئے۔
گورنر نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ریاست میں سینکڑوں پبلک لائبریریاں ہیں، لیکن زیادہ تر ویران ہوچکی ہیں، کتابیں پرانی یا بوسیدہ ہیں، اس لیے ان سب کو احاطے میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ فراہم کرکے دوبارہ فعل کرنے اور ماحول کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ لائبریری گود لینے کی اسکیم پر بھی انہوں نے زور دیا۔ یہ ضروری تھا کیونکہ طلباء نہ صرف کتابوں کے ذریعے بلکہ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے بھی اپنا علم حاصل کرتے ہیں جو ان کے آئی کیو کی سطح کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں، اور اس لیے اساتذہ کو بھی تعلیمی معاملات میں اپ ڈیٹ رہنا چاہیے۔انہوں نے طالب علموں کی ہمہ جہت ترقی کے لیے کم تعلیمی ہوم ورک اور کھیلوں اور تخلیقی سرگرمیوں پر زور کے ساتھ طلبہ کے لیے تعلیم کو مزید خوشگوار بنانے پر زور دیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر دیہات میں مندر، مسجد یا گرجا گھر نہ ہوں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن ہمیں دور دراز علاقوں کے لوگوں کے لیے مثالی اسکولوں کی ضرورت ہے اور صحت اور تعلیم کو ترجیح دی جائے۔
انہوں نے ریاست کے ہر کونے میں مثالی اسکول قائم کرنے پر زور دیا اورکہا کہ ارب پتی صنعت کار مکیش امبانی بھی مہاراشٹرا میں اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔