بحری سرحدوں کے تحفظ میں اہم رول، چین اور ہندوستان دوسرے اور تیسرے نمبر پر
حیدرآباد 28 جولائی (سیاست نیوز) دنیا کے اہم ممالک میں دفاعی طاقت میں اضافہ کی دوڑ جاری ہے۔ عام طور پر کسی بھی ملک کی فوجی طاقت کا اندازہ اُس کے پاس موجود جنگی طیاروں، میزائیلس اور دیگر صلاحیتوں کے ذریعہ کیا جاتا ہے لیکن حالیہ عرصہ میں اہم ممالک نے بحری سرحدوں کے تحفظ کے علاوہ دشمن کی سرزمین پر نظر رکھنے کے لئے طیارہ بردار جہازوں کا استعمال کیا ہے۔ کسی بھی ملک کے خلاف فوجی کارروائی یا دشمن ملک کی کارروائی کا مؤثر جواب دینے کے لئے فوری طور پر جنگی طیاروں کی روانگی میں طیارہ بردار جہاز اہم رول ادا کرتے ہیں۔ طیارہ بردار جہازوں کی طاقت کے معاملہ میں امریکہ دنیا میں سرفہرست ہے۔ دفاعی طاقت کے بارے میں دنیا کے 10 اہم ممالک میں طیارہ بردار جہازوں کی موجودگی کی تفصیلات جاری کی گئیں۔ امریکہ کے پاس 11 طیارہ بردار جہاز ہیں جو مختلف علاقوں میں سمندری سرحدوں کی حفاظت کے لئے تعینات ہیں۔ چین اگرچہ دفاعی طاقت کے معاملہ میں امریکہ سے مسابقت کررہا ہے لیکن طیارہ بردار جہازوں کے معاملہ میں وہ کافی پیچھے ہے۔ چین کے پاس محض 3 طیارہ بردار جہاز ہیں اور اِس رینکنگ میں ہندوستان نے تیسرا مقام حاصل کیا ہے جس کے پاس طیارہ بردار جہازوں کی تعداد 2 ہے۔ جاپان، برطانیہ، اٹلی، مصر، ساؤتھ کوریا اور آسٹریلیا کے پاس بھی فی کس 2 طیارہ بردار جہاز ہیں جبکہ فرانس کے پاس صرف ایک ہی جہاز ہے۔ ہندوستان نے بھی حالیہ عرصہ میں بحری بیڑے کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے حالانکہ ہندوستان کے لئے بحری راستہ سے کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں لیکن دفاعی طاقت میں اضافہ کے معاملہ میں ہندوستان نے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔ طیارہ بردار جہازوں کے ذریعہ امریکہ نے نہ صرف اپنی سرحدوں کے تحفظ پر توجہ مرکوز کی ہے بلکہ خلیج میں اپنے حلیف ممالک کو دشمن کے حملوں سے بچانے کا بیڑا اُٹھایا ہے۔ ایران کے ساتھ جاری تنازعہ میں آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ نے طیارہ بردار جہاز کو تعینات کیا جو وقفہ وقفہ سے ایران کے بحری بیڑوں کو نشانہ بناتا رہا۔V/1/k/b