نکسلائیٹس سرگرمیوں میںاضافہ پر پولیس دوبارہ سرگرم ۔ تلاشی اور طلایہ گردی میں شدت
حیدرآباد۔ریاست میں نکسلائٹس کی سرگرمیوں نے محکمہ پولیس کو دوبارہ سرگرم کردیا ہے اورپولیس سے نکسلائٹس کی اطلاع دینے والوں کیلئے انعام کے اعلانات کئے جانے لگے ہیں۔ضلع عادل آباد میں نکسلائٹس کی موجودگی اور سی پی آئی ( ماؤسٹ ) کی سرگرمیوں میں اضافہ کے بعد پولیس انتظامیہ سے گذشتہ ایک ماہ کے دوران 2 مرتبہ جھڑپ ہوچکی ہے ۔ تلنگانہ میں 10 سال بعد نکسلائٹس کی سرگرمیو ںمیں اضافہ کے بعد عادل آباد میں دیواروں پر پولیس نے پوسٹر چسپاں کرکے ماؤسٹ قائدین کے سروں پر انعام کا اعلان کیا ہے۔ڈی سی پی مسٹر ادئے کمار ریڈی کی جانب سے جاری پوسٹر میں انعامی رقم اور قائدین کے ناموں کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ ان کے سروں پر پولیس کی جانب سے نقد انعامی رقم کا اعلان کیا ہے۔ جن قائدین کے سروں پر انعامی رقم کا اعلان کیا گیا ہے ان میں نرگیش‘ پانڈو‘ منگو ‘ انیتا‘ مینا اور دیگر شامل ہیں۔ پولیس کی جانب سے نکسلائٹس قائدین کے سروں پر انعامی کے اعلان کے بعد ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ حکومت اور پولیس ماؤسٹسرگرمیوں کو کچلنے دوبارہ قدیم حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہوچکی ہے۔ تلنگانہ میں نکسلائٹس کی سرگرمیوں میں اضافہ کے سبب کئی مقامات اور نکسلائٹس سے متاثرہ اضلاع میں تلاشی مہم کے علاوہ طلایہ گردی میں اضافہ کردیاگیا ہے لیکن ان پر قابو پانے میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی ہے بلکہ ماؤیسٹوں کی تنظیم سازی کے علاوہ 12 علاقائی تنظیموں کی تشکیل اور ورا ورا راؤ کی رہائی کیلئے بند کے ساتھ سرگرمیوں میں اضافہ ہونے لگا ہے جو پولیس کیلئے تکلیف کا سبب بنتا جا رہا ہے۔ حکومت سے نکسلائٹس کی سرگرمیو ںپر قابو پانے اقدامات کی ہدایت کے بعد پولیس نے تلاشی مہم میں شدت پیدا کردی ہے علاوہ ازیں نکسلائٹس سے متاثرہ اضلاع میں موجود تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین کو چوکسی اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔