عام انتخابی نتائج کے بعد جمہوریت کے تحفظ اور دستور کو بچانے کی کوشش کرنے والی تمام سیاسی جماعتیں متحد ہوجائیں گی

   

نریندر مودی کو اقتدار سے بے دخل کرنا اولین ترجیح ، سربراہ بی آر ایس و سابق چیف منسٹر کے سی آر کا سیاست کو خصوصی انٹرویو
محمدمبشرالدین خرم
حیدرآباد۔10۔مئی ۔ جمہوریت کے تحفظ اور دستور کو بچانے کی کوشش کرنے والی تمام سیاسی جماعتیں نتائج کے بعد متحد ہوجائیں گی اور ان تمام سیاسی جماعتوں کی اولین ترجیح نریندرمودی کو اقتدار سے بیدخل کرنا ہوگی۔ملک کے سیاسی‘ معاشی ‘ یکجہتی کے شیرازہ کو بکھیرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی گروگولوالکر کے فلسفہ پر عمل کرتے ہوئے ملک کو غربت میں دھکیل رہی ہے اور اسی منصوبہ کے تحت 90کروڑ رائے دہندوں کے ملک میں 80کروڑ شہریوں کو 5 کیلو مفت چاول تقسیم کئے جا رہے ہیں۔سربراہ بھارت راشٹر سمیتی و سابق چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے ’روزنامہ سیاست‘ کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کہا کہ ہندستان میںعام انتخابات میں سب سے اہم مدعا ملک کے دستور اور آئین کے تحفظ کے علاوہ ہندستان کے خمیر سیکولر ازم کو بچانے کا ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ تمام سیاسی جماعتیں جو بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخالف ہیں اور جو نہیں چاہتی کہ ملک میں دوبارہ نریندر مودی کو اقتدار دیا جائے وہ انتخابات کے نتائج کے بعد متحدہ طور پر اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ مودی دوبارہ اقتدار پر نہ آئے۔کے سی آر نے کہا کہ نریندر مودی کا وزیر اعظم بننا ہی ملک کے لئے بدنصیبی رہا اور اب اس بدنصیبی کے دور کا خاتمہ ہونے جا رہاہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ ملک میں اب تک تین مرحلوں کے انتخابات میں مجموعی طور پر عوام نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو مسترد کردیا ہے اور انہیں جو اطلاعات ہیں ان 3 مرحلوں میں ہوئے 283 لوک سبھا نشستوں پر ہوئے انتخابات میں بی جے پی برتری سے کوسوں دور ہے۔ انہو ںنے تلنگانہ میں بی جے پی کی کامیابی کے امکانات کے متعلق کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو One or None نشستیں حاصل ہوں گی۔کے سی آر نے کہا کہ نریندر مودی سرمایہ کاروں کی مدد سے ملک کے عوام کو لوٹنے کا کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے امبانی اور اڈانی کے متعلق نریندر مودی کے تبصرے پر کہا کہ وزیر اعظم یہ جان چکے ہیں کہ وہ واپس اقتدار پر نہیں آنے والے ہیں اسی لئے اپنے ساتھیوں کو بچانے کی کوشش کے طور پر وہ اس بیان کے ذریعہ یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کا اڈانی اور امبانی کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔ سربراہ بی آر ایس نے گذشتہ اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی کو ہوئی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ عوام نے ان کی پارٹی کو پوری طرح سے مسترد نہیں کیا ہے بلکہ اقتدار حاصل کرنے والی کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان محض 1.5 فیصد ووٹ کا فرق ہے اور اسمبلی انتخابات کے دوران عوام نے کانگریس کی ضمانتوں پر اعتماد کرتے ہوئے کانگریس کو ووٹ دیا تھا ۔ کے چندر شیکھر راؤ نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ملک میں جاری سیاست کو سمجھنے کے لئے این ڈی اے یا انڈیا اتحاد کے بجائے دو بڑی سیاسی جماعتوں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کو دیکھنے کی ضرورت ہے اور ملک کے موجود ہ ماحول کو دیکھتے ہوئے یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ بی جے پی کو اقتدار حاصل نہیں ہوگا کیونکہ ملک میں سب سے اہم مسئلہ دستور کے تحفظ کا ہے اور اگر آئین کو ختم کردیا جاتا ہے تو ملک تباہ ہوجائے گا۔ انہوں نے انتخابی نتائج کے بعد علاقائی سیاسی جماعتوں کی اہمیت میں اضافہ کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ قومی سطح پر مخالف مودی محاذ تیار ہوگا جو کہ مودی کو نکال پھینکے گا۔ کے سی آر نے بتایا کہ ملک کی تاریخ میں اتنی بڑی تعداد میں سرمایہ دار اور دولتمندوں نے ترک وطن نہیں کیا جتنا گذشتہ 10برسوں کے دوران ہوا ہے۔ سربراہ بی آر ایس نے بتایا کہ آرایس ایس اور اس کے اصولوں کے خلاف جو کام کر رہے ہیں وہ ملک کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ 10 سال کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے نفرت پھیلاتے ہوئے حکومت کی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ ملک بھر میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 760 ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کرتے ہوئے حکومتوں کو گرایا ہے جس کی مثال بہار‘ مہاراشٹرا‘ ہماچل پردیش اور دیگر ریاستیں ہیں جہاں بی جے پی نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور سی بی آئی کا استعمال کرتے ہوئے حکومتوں کو گرایا ہے۔ انہوں نے اپنی دختر کے کویتا کی گرفتاری کو بھی اسی سلسلہ کی کڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کے طور پر یہ کاروائی کی گئی ہے ۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سنگارینی کے 400میگا واٹ کے پراجکٹ کو آندھرا کے حوالہ کئے جانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہی نہیںبلکہ تلنگانہ کے 7منڈلوں کو آندھراکے حوالہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی اسی طرح نوودیالیہ اسکول جو قانون کے مطابق ہر ضلع میں ایک قائم کئے جانے چاہئے اس کے لئے ان کی حکومت نے نریندر مودی کو 100 سے زائد مکتوبات روانہ کئے لیکن ایک بھی اسکول منظور نہیں کیا گیا میڈیکل کالجس کی منظوری کے لئے بھی متعدد نمائندگیاں کی گئیں لیکن مرکز نے انہیں بھی نظرانداز کردیا۔ کے سی آر نے بتایا کہ ہندستان میں بی جے پی توڑنے کا کام کر رہی ہے جبکہ بھارت راشٹرسمیتی جوڑنے کا کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ان کی صحت کے سبب وہ پارلیمانی انتخابات کے دوران مہاراشٹرا میں مقابلہ کرنے سے قاصر رہے لیکن انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کی پارٹی آئندہ مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں حصہ لے گی۔ انہو ںنے بتایا کہ ان کی پارٹی ریاست میں 12نشستوں پر کامیاب ہوسکتی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک بھی نشست پر کامیابی ملنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں ۔انہوں کہا کہ نریندر مودی مسلم کے نام پر عوام کو تقسیم کرتے ہوئے ووٹ مانگ رہے ہیں ۔