فوری اقدامات نہ کرنے پر بھوک ہڑتال شروع کرنے کا بھی انتباہ
حیدرآباد۔28اپریل(سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی ہاسٹل میں پانی کی سربراہی نہ ہونے پر طالبات نے ہنگامہ کرکے احتجاج کا آغاز کردیا ہے اور انتظامیہ کو انتباہ دیا کہ وہ اگر پانی کی سربراہی بحال نہیں کرتا ہے تو بھوک ہڑتال کا آغاز کرکے احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی۔ بتایا گیا کہ یونیورسٹی ہاسٹل کے بلاک 1 میں گذشتہ کئی ہفتوں سے سربراہی آب میں خلل پیدا ہو رہا ہے اور یومیہ ایک گھنٹہ پانی کی سربراہی ہے جو ہاسٹل طالبات کیلئے ناکافی ہے۔ذرائع کے مطابق جامعہ عثمانیہ علاقہ میں زیر زمین پانی کی سطح میں کمی کے سبب بیشتر بورویل غیر کارکرد ہوچکے ہیں جس کے نتیجہ میں ہاسٹلس میں پانی کی سربراہی میں خلل پیدا ہورہا ہے ۔ طالبات کی شکایت ہے کہ زیر زمین سطح آب میں کمی موسم گرما میں ہوئی ہوگی لیکن پانی کی سربراہی کا مسئلہ کئی ماہ سے جاری ہے اور طالبات انتظامیہ کو متوجہ کرواچکی ہیں اور ہاسٹل بلاک 1 میں ٹینکرس سے پانی کی سربراہی کیلئے بھی نمائندگی کی جاچکی ہے لیکن انتظامیہ 1000 طالبات کیلئے ایک ٹینکر پانی پہنچاکر یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ جن ہاسٹلس میں پانی کی قلت ہے ان میں ٹینکرس سے پانی کی سربراہی عمل میں لائی جارہی ہے جبکہ ایک ٹینکر پانی سے 1000 طالبات کا گذر ممکن نہیں ہے ۔ یونیورسٹی انتظامیہ پر طالبات نے الزام عائد کیا کہ بلاک 1 کی طالبات کو بلاک 3 کی بنیادی سہولتوں کے استعمال کی اجازت نہیں ہے ۔ بلاک 3 میں پانی کی وافر موجودگی کے باوجود بلاک 1 طالبات کو مشکل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔وائس چانسلر جامعہ عثمانیہ پروفیسر ڈی رویندر نے طالبات کے احتجاج کو غیر ضروری اور مفادپرستی پر محمول قرار دیا اور کہا کہ جامعہ عثمانیہ میں پانی کی کوئی قلت نہیں ہے اور نہ ہی ٹینکرس کی کوئی کمی ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ جن ہاسٹل کی عمارتوں میں پانی کی سربراہی میں خلل پیدا ہورہا ہے ان ہاسٹلس کو ٹینکرس کے ذریعہ پانی سربراہ کیا جا رہاہے اور ضرورت پڑنے پر مزید ٹینکرس سربراہ کئے جائیں گے۔ 3