جسٹس نگیش بھیما پاکا کے فیصلہ پر عدالتی حقوق میں بحث
حیدرآباد 18 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ کے جسٹس نگیش بھیما پاکا نے ہائیکورٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش پر ایک درخواست گذار پر ایک کروڑ روپئے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ جسٹس نگیش بھیما پاکا نے ہائیکورٹ کے ایک بنچ پر زیرالتواء مقدمہ کو مخفی رکھتے ہوئے دوسرے بنچ سے احکامات حاصل کرنے پر سخت برہمی ظاہر کی۔ اُن کا ماننا تھا کہ عدالت کو گمراہ کرتے ہوئے درخواست گذار نے فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ عدالت کو گمراہ کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضہ جات کے معاملہ میں ایک بنچ پر مقدمہ زیردوران ہے لیکن درخواست گذار نے اس کا حوالہ دیئے بغیر دوسرے بنچ سے فیصلہ حاصل کیا۔ جسٹس بھیما پاکا کی جانب سے ایک کروڑ روپئے کا جرمانہ عائد کرنا عدالتی حلقوں میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری اراضی پر قبضہ کی کوشش کو ہائیکورٹ نے روک دیا تھا اور زیردوران مقدمہ کا حوالہ دیئے بغیر درخواست گذار دوسرے بنچ سے رجوع ہوا۔ عدالت کو گمراہ کرنے کے معاملہ میں سابق میں بھی درخواست گذاروں کے خلاف جرمانہ عائد کیا جاچکا ہے لیکن ایک کروڑ کا جرمانہ ہائیکورٹ کی تاریخ کا شاید پہلا موقع ہے۔ واضح رہے کہ اپریل 2024 ء میں عدالت کو گمراہ کرنے کے ایک معاملہ میں آدی بٹلہ کے سابق چیرپرسن پر عدالت نے ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ جسٹس بھیما پاکا نے کہاکہ جرمانہ کے ذریعہ مستقبل میں درخواست گذاروں کو کسی بھی غلط اقدام سے روکنے میں مدد ملے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ عدالت کو گمراہ کرنے کی کوششوں پر کڑی کارروائی کی ضرورت ہے۔ 1