نئی دہلی 23 اپریل:(ایجنسیز)سپریم کورٹ نے ایک اہم سماعت کے دوران واضح کیا کہ عدالت میں ایسے علم یا معلومات کو کوئی حیثیت حاصل نہیں جو غیر مصدقہ ذرائع، خاص طور پر واٹس ایپ یونیورسٹی سے حاصل کی گئی ہوں۔ عدالت نے کہا کہ نامور ادیبوں اور مفکرین کی آراء کا احترام اپنی جگہ، مگر انہیں قانونی دلیل کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔یہ ریمارکس مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں میں خواتین کے داخلے سے متعلق اہم مقدمات کی سماعت کے دوران کئے گئے۔ نو رکنی آئینی بنچ کی سربراہی چیف جسٹس سوریہ کانت کر رہے ہیں، جس میں متعدد سینئر ججس شامل ہیں۔سماعت کے دوران داؤدی بوہرہ برادری سے پیش سینئر وکیل نیرج کشن کول نے ششی تھرور کے ایک مضمون کا حوالہ دیا، جس میں مذہبی معاملات میں عدالتی مداخلت سے گریز کی بات کی گئی تھی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی بھی شخصیت کی ذاتی رائے کو قانون کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔اسی دوران جسٹس بی وی ناگرتھنا نے مسکراتے ہوئے تبصرہ کیا کہ علم ضرور حاصل کیا جائے، لیکن واٹس ایپ یونیورسٹی سے نہیں۔ جس پر عدالت میں ہلکی سی مسکراہٹ دیکھنے میں آئی۔وکیل کول نے کہا کہ علم کسی بھی ذریعہ سے حاصل ہو سکتا ہے اور اسے خوش آمدید کہا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ کون سا ذریعہ بہتر ہے۔عدالت نے ایک روز قبل بھی یہ اہم مشاہدہ کیا تھا کہ کسی مذہب کے کون سے اعمال لازمی ہیں اور کون سے نہیں، اس کا تعین کرنا عدالت کیلئے مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔یہ معاملہ 2018 کے تاریخی فیصلے سے جڑا ہوا ہے، جب سبریمالا مندر میں 10 سے 50 سال کی خواتین کے داخلے پر پابندی ختم کر دی گئی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں اور دیگر مذاہب سے متعلق سوالات پر اب بڑی آئینی بنچ غور کر رہی ہے۔