امریکہ میں فوجی مصارف 921 بلین ڈالر، ہندوستان 92 بلین ڈالر کے ساتھ پانچویں نمبر پر
حیدرآباد 16 جون (سیاست نیوز) دنیا میں بڑھتے جنگی تنازعات کے دوران بیشتر ممالک نے دفاعی شعبہ کے استحکام پر توجہ مرکوز کی ہے۔ فوجی طاقت میں اضافہ کے ذریعہ دشمن ممالک کے حملوں کا مقابلہ کرنے پر ترجیح کے نتیجہ میں بجٹ کا خاطر خواہ حصہ دفاعی شعبہ کے لئے الاٹ کیا جارہا ہے۔ فوجی طاقت میں اضافہ کے لئے دنیا کے 10 ایسے ممالک کی نشاندہی کی گئی جو ہر سال دفاعی مصارف میں اضافہ کررہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 10 ممالک میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ امریکہ جو وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی ملک سے فوجی تنازعہ میں ملوث رہتا ہے وہ دفاعی شعبہ پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ امریکہ میں دفاعی شعبہ پر مصارف 921 بلین ڈالر ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ دنیا کے سپر پاور کی دوڑ میں شامل چین اور روس بھی فوجی طاقت میں اضافہ پر علی الترتیب 251.3 بلین ڈالر اور 186.2 بلین امریکی ڈالر خرچ کررہے ہیں۔ جرمنی 107.3 بلین ڈالر کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ ہندوستان میں دفاعی شعبہ کے مصارف 92.1 بلین امریکی ڈالر ہیں اور 10 سرکردہ ممالک میں ہندوستان کو پانچواں مقام حاصل ہوا ہے۔ برطانیہ، سعودی عرب، فرانس، جاپان اور یوکرین بھی دفاعی شعبہ پر اپنے بجٹ کا خاطر خواہ حصہ خرچ کررہے ہیں۔ قومی سلامتی اور سرحدوں کی حفاظت کے لئے عصری ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان کو عام طور پر پاکستان سے زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے اور پہلگام واقعہ کے بعد ہندوستان نے پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے بڑی کارروائی کی ہے۔ پڑوسی ممالک میں ہندوستان کو سوائے پاکستان کے کوئی فوجی تنازعہ نمایاں طور پر دکھائی نہیں دیتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے خطرہ اور قومی سلامتی کے نام پر بیشتر ممالک خود کو دنیا میں فوجی طاقت کے اعتبار سے سرکردہ ممالک میں شامل کرنے کی دوڑ میں ہیں۔ عوام کی بھلائی کی اسکیمات کے بجائے دفاعی شعبہ کے مصارف پر توجہ لمحہ فکر ہے۔V/1/k/b