قربانی کی قبولیت اور تقوی و پرہیزگاری کی اہمیت
خلت ابراہیمی اور محبت مصطفوی کی جلوہ نمائی
ذوالحجہ کی ابتداء کے ساتھ ہی ہمارے ذہن و دماغ میں قربانی، جاں نثاری اور فدائیت کے تاریخی و عظیم واقعات کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ بچے، بڑے، مرد و خواتین اور امیر و غریب سب قربانی کی فکر و تیاری میں لگ جاتے ہیں۔دنیا کے سارے مسلمان اس عظیم ہستی کی سنت و طریقہ کی پیروی کرتے ہیں، جس نے ہزارہا سال قبل اس خاکدان گیتی پر بڑھاپے کی عمر میں اپنے اکلوتے فرزند دلبند کو حکم خدا کی تعمیل میں قربان کرنے کے لئے آمادہ ہو گیا تھا۔ چشم فلک نے شاید روئے زمین پر خدا کی خلت و محبت کا ایسا انوکھا جذبہ کبھی دیکھا ہو۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دنیا میں اولاد کو ذبح کرنے کے واقعات حقیقت میں رونما ہوتے ہیں اور آج کل بھی گاہے گاہے ایسے واقعات سننے کو مل جاتے ہیں کہ سنگ دل باپ نے خسیس دنیا کی حرص و ہوس میں اپنے لخت جگر کی بلی چڑھادی۔ یہ قربانی نہیں قساوت قلبی اور حیوانیت ہے کہ انسان اپنے دنیوی مفادات کی خاطر اپنی اولاد کو تک بھینٹ چڑھانے کے لئے آمادہ ہو جائے۔
قربانی کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے، جتنی انسانی تاریخ ہے۔ سب سے پہلے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں قربانی حضرت آدم علیہ السلام کے دو لڑکوں ہابیل اور قابیل نے دی تھی۔ اللہ تعالی نے ہابیل کی قربانی قبول فرمالی اور قابیل کی قربانی رد کردی۔ قابیل نے حسد اور انتقام سے بھڑک کر ہابیل سے کہا کہ ’’میں تجھے ضرور قتل کروں گا‘‘ تو ہابیل نے نہایت متانت اور سنجیدگی سے قربانی کی قبولیت کے معیار کو واضح کرتے ہوئے کہا: ’’بلاشبہ اللہ تعالی متقین (پرہیزگاروں) سے ہی (قربانی) قبول فرماتا ہے‘‘۔ (سورۃ المائدہ۔۲۷)
قربانی اسی شخص کی قبول ہوتی ہے، جس کے دل میں تقویٰ، پارسائی، طہارت، خوف خدا، گناہوں کی آلودگیوں سے پاکی، دنیاوی تعلقات و علائق سے دوری اور صفائی ہوتی ہو۔ اسی لئے اللہ تعالی قرآن مجید میں قربانی کی حقیقت اور اس کی حکمت کو بیان فرماتا ہے کہ ’’ہرگز نہ تو اللہ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے صرف تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسی طرح (اللہ تعالی نے) ان (جانوروں) کو تمہارے تابع کردیا ہے، تاکہ تم اللہ کی کبریائی بیان کرو، جیسے اس نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اور آپ نیکی کرنے والوں کو خوش خبری سنادیں‘‘۔ (سورۃ الحج۔۳۷)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے اپنی ’’خلت‘‘ سے سرفراز فرمایا اور آپ کو ’’خلیل اللہ‘‘ کے اعزاز سے نوازا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ’’اللہ تعالی نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا‘‘(سورۃ النساء ۔ ۱۲۵) خلیل وہ ہوتا ہے، جس کو اللہ تعالی اپنی ذات کے لئے چن لیتا ہے، اس کے دل و دماغ میں اللہ تعالی کے سوا کسی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس کے دل میں غیر خدا کے لئے رمق برابر جگہ نہیں ہوتی۔ ایسی ذات کو خلیل کہتے ہیں۔ اسیلئے نبی اکرم ﷺکے ارشاد میں ہمیں ملتا ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اگر میں بندوں میں کسی کو ’’خلیل‘‘ بناتا تو ضرور ابوبکر کو ’’خلیل‘‘ بناتا۔ بلاشبہ تمہارے صاحب (محمد عربی ﷺ) اللہ کے خلیل ہیں‘‘۔اس میں شک نہیں کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اللہ تعالی کے حبیب اور خلیل ہیں۔ لیکن یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بہت سی خوبیاں اور صفات بیان کی گئی ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے: ’’یقیناً ابراہیم (اپنی ذات میں) ایک اُمت تھے، اللہ کے بڑے فرمانبردار تھے، ہر باطل سے کنارہ کش (صرف اسی کی طرف یکسو) تھے‘‘ (سورۃ النحل ۱۲۰) ’’اور آپ کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے، بے شک وہ صدیق نبی تھے‘‘۔ اس طرح متعدد مقامات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی متعدد خوبیوں اور کمالات کو بیان فرمایا۔ قرآن مجید نے نبی اکرم ﷺ کے اوصاف و کمالات اور محامد و محاسن کا احاطہ کیا، ساتھ ہی جس اسلوب اور پیرائے میں نبی اکرم ﷺ کا ذکر کیا گیا، اس طرح کسی نبی کا نہیں کیا گیا۔ بطورِ خاص اللہ تعالی کے ساتھ تعلق و علاقہ کے بیان میں کل کائنات اور کل انبیاء میں نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی صرف اور صرف تن تنہا اور بے مثل و بے مثال ہے۔ بطور مثال اللہ تعالی نے نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا۔ آپﷺ کے زبان فیض ترجمان سے جاری ہونے والے کلمات کو وحی سے تعبیر کیا۔ آپﷺ کے دست قدرت پر بیعت کرنے کو اللہ کے دست قدرت پر بیعت کرنا قرار دیا۔ اس طرح کی یگانگت کسی دوسرے نبی یا فرشتہ کے ساتھ بیان نہیں کی گئی، جو کمال محبت کی علامت ہے۔الغرض حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے عبدیت کے عظیم مقام و مرتبہ ’’خلیل اللہ‘‘ کے لقب سے ملقب فرمایا اور وقفہ وقفہ سے آپ کو مختلف آزمائشوں میں مبتلاء کیا اور ہر مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے امتحان میں کھرے ثابت ہوئے۔ نمرود کی دہکتی آگ میں ڈالے گئے، اپنے پرایوں کے ظلم و ستم کو سہا، پردیس کی زندگی بسر کی، اپنی محبوب زوجہ اور اکلوتے فرزند کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑکر واپس ہوئے، جہاں نہ پانی کا انتظام تھا اور نہ ہی کوئی جاندار کی بود و باش تھی۔ ایسے کٹھن و صبر آزما امتحانات کہ جماعت کی جماعتوں کے قدم لڑکھڑا جاتے، لیکن ایمان کامل، یقین محکم، توکل خالص کی وہ اعلی مثال قائم کی، جس کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ ان آزمائشوں میں سب سے کٹھن آزمائش اس سے بڑھ کیا ہوسکتی ہے کہ ضعیف العمری میں اپنے اکلوتے فرماں بردار، نور نظر، جگر کے خون، دل کے سکون فرزند ارجمند کو دست خود سے ذبح کرنے کا حکم ہوا۔ یہاں اس قربانی کے پس پردہ کوئی دنیوی اغراض و مقاصد کار فرما نہیں، کوئی امیدیں اور آرزوئیں وابستہ نہیں، کوئی دنیوی منفعت کی خواہش نہیں، صدفیصد بندگی کا اظہار ہے، کامل سپردگی اور مکمل تفویض و حوالگی کی مثال ہے۔ ہمہ تن اطاعت و انقیاد اور تسلیم و رضا کی علامت ہے۔
فرزند ارجمند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے سے متعلق احکام خداوندی کی وصولیابی کے بعد جو مکالمہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے درمیان ہوا، اس کو قرآن مجید نے قیامت تک کے لئے اپنے سینے میں محفوظ کر رکھا ہے۔ جب بھی اس کی تلاوت کی جائے گی، ایک نئی حلاوت اور عجیب سی رقت کی کیفیت طاری ہوگی۔ ارشاد الہی ہے: ’’پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: میں (ہجرت کرکے) اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں، وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا (پھر دعاء کی) اے میرے رب! تو مجھے صالحین میں بیٹے (اولاد) عطا فرما۔ تو ہم نے انھیں برد بار بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کی بشارت دی۔ پھر جب وہ (اسماعیل علیہ السلام) اُن کے ساتھ دوڑکر چل سکنے (کی عمر) کو پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمھیں ذبح کر رہا ہوں، سو غور کرو تمہاری کیا رائے ہے۔ (اسماعیل علیہ السلام نے) کہا ابا جان! کر گزریئے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے، اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے ضرور صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ پھر جب دونوں (رضائے الہی کے سامنے) جھک گئے اور ابراہیم (علیہ السلام) نے انھیں پیشانی کے بل لٹایا، ہم نے ندا دی کہ ابراہیم! واقعی تم نے اپنا خواب سچ کردکھایا، بے شک ہم محسنوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔ بے شک یہ بڑی کھلی آزمائش تھی اور ہم نے ایک بہت بڑی قربانی کے ساتھ اس کا فدیہ کردیا اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں اس کا ذکر خیر برقرار رکھا۔ سلام ہو ابراہیم پر ہم اس طرح محسنوں کو صلہ دیا کرتے ہیں۔ بلاشبہ وہ ہمارے مؤمن بندوں میں سے ہیں‘‘۔ (سورۃ الصفت۔۹۹تا۱۱۱)پس ہر سال بقرعید حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی یاد تازہ کرتی ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ مؤمن ہروقت اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی کے لئے اپنی ہر چیز جان و مال حتی کہ اولاد کو بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہے اور یہ کیفیت پیدا ہوجائے تو دین اور دنیا کی سعادت نقد دم ہے۔