غربت اور قرض کے بوجھ سے پریشان سابق کرکٹر کی خودکشی

   

کولکتہ۔ 2019-20 سیزن کے لئے انڈر 16 بنگال کرکٹ ٹیم کے رکن روہت یادو نے ہاوڑہ ضلع میں اپنی آبائی رہائش گاہ پر خودکشی کرلی۔ چہارشنبہ کی صبح اس کے گھر والوں نے اس کی لاش اس کے کمرے کے بستر پر پائی۔ اسے فوری طور پر مقامی اسپتال پہنچایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے بعد مقامی پولیس کا خیال ہے کہ نوجوان کرکٹر نے ممکنہ طور پر زہرکھا کر خودکشی کی ہے۔ اس کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے جس کے بعد موت کی اصل وجہ کا پتہ چل سکے گا۔ اس کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے کرکٹ کیریئر کو آگے بڑھانے کے لیے فنڈز کی کمی اور مارکیٹ سے بھاری قرض نے اسے ذہنی تناؤ کی طرف دھکیل دیا، جس کی وجہ سے اس نے خودکشی کی ہوگی۔ اہل خانہ کے مطابق روہت نے کھیلوں کا سامان خریدنے کے مقصد سے اپنے جاننے والوں سے قرض لیا تھا۔ تاہم، چونکہ اس کے خاندان کے پاس آمدنی کا کوئی مستحکم ذریعہ نہیں تھا، اس لیے وہ قرض ادا کرنے سے قاصر تھا اور اس کے نتیجے میں قرض دہندگان نے اس پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا۔ اس کے خاندان والوں نے دعویٰ کیا کہ قرض کی ادائیگی کے لیے روہت نے دوسرے ذرائع سے نئے قرضے کا سہارا لیا، جس کی وجہ سے وہ قرض کے جال میں پھنس گیا۔
معلوم ہوا ہے کہ وہ گزشتہ دو دنوں سے بے چین دکھائی دے رہے تھا لیکن ان کے قریبی ساتھیوں اور دوستوں میں سے کوئی بھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آخرکار یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوگا۔ روہت کو پہلے کرکٹ اسوسی ایشن آف بنگال (کیاب) کے 35 رکنی انڈر16 اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا اور بعد میں اس نے پلیئنگ الیون میں بھی جگہ بنا ئی تھی۔