نیویارک : 3جولائی ( ایجنسیز ) اقوام متحدہ کے ادارہ انروا نے کہا ہے کہ غزہ میں اقوام متحدہ کو امداد فراہم کرنے دیا جائے۔عرب میڈیا کے مطابق پناہ گزینوں کے حوالے سے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انروا نے کہا ہے کہ غذہ کے حصول کیلئے شہید اور زخمی ہونے والے فلسطینوں کے حوالے سے تحقیقات ہونی چاہیے۔انروا کی جانب سے مزید کہا گیا کہ غزہ ہیومینیٹیرین فاونڈیشن کے متحرک ہونے سے قبل اقوام متحدہ کی جانب سے پورے غزہ کی پٹی میں امداد تقسیم کرنے کے لیے 400 سے زائد پوائنٹس چلائے جارہے تھے، جبکہ اب غزہ ہیومینیٹیرین فاونڈیشن صرف 4 میگا سائٹس کے ساتھ کام کرہی ہے جن میں ایک وسط میں، اور 3 جنوب میں موجود ہیں جبکہ شمال میں کوئی سائٹ موجود نہیں۔انروا کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی جانے والی پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ امداد کی تقسیم، سب کی پہنچ میں احترام اور حفاظت کے ساتھ ہونی چاہیے۔دوسری جانب آج صبح سے اسرائیلی حملوں میں 73 فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں، جن میں 33 فلسطینی امداد لینے کے غرض سے غزہ ہیومینیٹیرین فاونڈیشن کی امدادی سینٹرز کے قریب اسرائیلی قابض افواج کی بلااشتعال فائرنگ کا نشانہ بنے۔
اسرائیل نواز یاسر ابو شباب ہتھیار ڈال
دے، حماس کا مطالبہ
دوحہ : 3جولائی ( ایجنسیز)حماس نے غزہ گینگ کے ایک سرغنہ کو 10 دن کے اندر ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا ہے جس پر اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے اور انسانی امداد لوٹنے کا الزام ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ چہارشنبہ کے روز ایک ‘انقلابی عدالت’ کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اور اس میں حماس کے اختیار کو مسترد کرنے والے ایک مسلح بدو گینگ کے سربراہ یاسر ابو شباب کو نشانہ بنایا گیا تھا۔خیال کیا جاتا ہے کہ ابو شباب جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں ہے جو اس وقت اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔عدالت نے فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ حماس کی سکیورٹی فورسز کو ان کے ٹھکانے کی اطلاع دیں۔ان کے گروپ نے ہتھیار ڈالنے کے حکم پر عوامی طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔حماس نے ابو شباب پر اقوام متحدہ کے امدادی قافلوں کو لوٹنے کا الزام عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اسے اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔ذرائع کے مطابق اس گروہ نے ایلیٹ جنگجوؤں کو تعینات کیا ہے جن کو ختم کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔اگرچہ اسرائیل نے حماس کے خلاف غزہ میں بعض گروہوں کی حمایت کا اعتراف کیا ہے ، لیکن اس نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ وہ کون سے گروہ ہیں۔