غزہ میں جاری مذاکرات اطمینان بخش: ٹرمپ

   

واشنگٹن: اسرائیل۔حماس جنگ بندی کا کیا مستقبل ہے، اس بارے میں سوال پر وائٹ ہاؤس کی ایک پریس کانفرنس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ غزہ کے حوالے سے “بہت اچھی بات چیت جاری ہے لیکن انھوں نے بہت کم تفصیل پیش کی۔غزہ میں تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی 19 جنوری کو عمل میں آئی تھی اور اس کے نتیجے میں غزہ میں قید 33 اسرائیلی قیدیوں اور اسرائیل کے زیرِ حراست 2000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔چھے ہفتوں پر مشتمل اس جنگ بندی کا ابتدائی مرحلہ دو دن میں ختم ہونے والا ہے۔ اسرائیل نے جمعرات کو کہا کہ ابتدائی مرحلے میں توسیع کی کوشش میں وہ مذاکرات کاروں کو قاہرہ بھیجے گا۔برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا دوسرا مرحلہ نتیجہ خیز ہوگا؟تو انہوں نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ کوئی بھی واقعتا نہیں جانتا لیکن ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ ہماری کچھ بہت اچھی بات چیت جاری ہے۔ اقوامِ متحدہ نے اسرائیلی اور رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں دونوں کی تصاویر کو تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان سنگین حالات کی عکاسی کرتی ہیں جن میں انہیں رکھا گیا تھا۔
سٹارمر نے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا جس میں اسرائیل کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کیلئے ایک ریاست بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ٹرمپ کی غزہ پر امریکی قبضے اور فلسطینیوں کی مستقل نقلِ مکانی کی تجویز کے بارے میں جب پریس کانفرنس میں سٹارمر سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا، “جی ہاں، میں سمجھتا ہوں کہ دو ریاستی حل ہی بالآخر خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔