تل ابیب : اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ وہ غزہ میں کسی بھی وقت جنگ دوبارہ شروع کرسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ دھمکی حماس کے بیان کے بعد دی ہے جس میں تنظیم نے کہا ہیکہ اسرائیل فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کرکے جنگ بندی معاہدے کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔انہوں نے تل ابیب کے علاقے میں فوجی افسران کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں “کسی بھی لمحے جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، ہم مذاکرات کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے جنگ کے اہداف حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی لمحے شدید لڑائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ غزہ میں، ہم نے حماس کی زیادہ تر منظم قوتوں کو ختم کر دیا ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم جنگ کے اہداف کو مکمل طور پر حاصل کریں گے، چاہے وہ مذاکرات کے ذریعے ہو یا دوسرے طریقوں سے۔انہوں نے کہا کہ حماس دوبارہ غزہ پر کنٹرول نہیں کرے گی اور ہمارے اس موقف کی امریکی صدر حمایت کرتے ہیں۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف نے اعلان کیا کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے میں توسیع پر بات چیت کے لیے اگلے ہفتے خطے کا دورہ کریں گے۔وٹ کوف نے کہا کہ ہمیں پہلے مرحلے کو آگے بڑھانا ہے اس لیے میں اس ہفتے غالباً بدھ کو اس پر بات چیت کرنے کیلیے خطے کے دورے پر جاؤں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کو شروع کرنے اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے اور جنگ کو ختم کرنے کا مناسب وقت ملے گا‘۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ان کے خیال میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو جنگ بندی میں توسیع یا لڑائی دوبارہ شروع کرنے کو ترجیح دیں گے، وٹ کوف نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ جنگ بندی کو ترجیح دیتے ہیں۔وٹکوف نے کہا کہ “میرے خیال میں وزیر اعظم کا ایک مضبوط مقصد ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یرغمالیوں کو رہا کیا جائے، یہ یقینی بات ہے۔ وہ اسرائیل کی ریاست کی حفاظت بھی کرنا چاہتے ہیں، اس لیے ان کے پاس سرخ لکیر ہے۔’’انہوں نے مزید کہا کہ یہ ’’سرخ لکیر‘‘ غزہ پر حکومت کرنے میں حماس کے مستقبل کا کردار ہے۔ میں اس مرحلے پر یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ حماس غزہ میں حکومت کا حصہ نہیں بن سکتی “۔امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ’’جہاں تک حماس کے امسلسل وجود کا تعلق ہے تو میں یہ تفصیل اسرائیلی وزیر اعظم پر چھوڑتا ہوں’’۔حماس نے اعلان کیا کہ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ حماس نے کہا کہ اسرائیل ہفتے کیروز غزہ سے رہا ہونے والے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے رہا ہونے والے چھ سو سے زائد فلسطینیوں کی رہائی روک کر معاہدے کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ حماس نے ثالثی کرنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر معاہدے کے تحت تمام قیدیوں کی رہائی کیلئے دباؤ ڈالیں۔