فارم-7 درخواستوں کا مسئلہ: ریاست میں ووٹر لسٹ سے ناموں کے اخراج پر شکوک

   

دعوؤں اور اعتراضات کی معیاد ختم ہونے کے بعد بھی ہزاروں درخواستوں کی وصولی پر تشویش
حیدرآباد، 31 اکٹوبر ]سیاست نیوز[ریاست تلنگانہ میں ووٹر لسٹ کے خصوصی جامع ترمیم کے عمل کے دوران فارم-7 درخواستوں کی بھاری تعداد شدید شکوک کا باعث بن رہی ہے۔ ووٹروں کو ان کے علم میں لائے بغیر ان کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کے لیے جمع کروائی جانے والی یہ درخواستیں عام شہریوں کے لیے پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ ایسے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ نااہل ووٹروں کو ہٹانے کے لیے مخصوص اس فارم کا سیاسی مفادات کے تحت غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ریاست بھر میں اس بات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں فارم-7 درخواستیں جمع کرانے کے پیچھے اصل مقاصد کیا ہیں؟ مقررہ آخری تاریخ ختم ہونے کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں درخواستیں کیوں موصول ہو رہی ہیں؟ کیا یہ درخواستیں واقعی عام ووٹروں کی جانب سے دی گئی ہیں یا پھر سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹس اور بعض عناصر نے مخصوص طبقات کو نشانہ بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے ؟چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، ریاست میں یکم جنوری سے 28 اکٹوبر تک جملہ 5,84,179 فارم-7 درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان میں سے 5,10,856 درخواستوں کو منظور کیا جا چکا ہے ، جبکہ 55,028 درخواستیں مسترد کی گئیں اور 18,295 درخواستیں تاحال زیر التوا ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ ریاست میں لاکھوں ووٹروں کے نام حذف کرنے کی کارروائی انجام دی جا چکی ہے۔اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو دعوؤں اور اعتراضات کی سرکاری معیاد ختم ہونے کے بعد موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد ہے۔ 8 اکٹوبر سے 28 اکٹوبر کے درمیان، یعنی مقررہ معیاد کے اختتام کے بعد بھی 46,428 فارم-7 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جس سے اس عمل کی شفافیت پر مزید سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔—2/a/b