کانگریس کا احتجاج، بھٹی وکرامارکا کی قیادت میں وفد کی متاثرین سے ملاقات
حیدرآباد۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے پارٹی قائدین کے ہمراہ رنگاریڈی ضلع کے یاچارم منڈل کا دورہ کرتے ہوئے فارماسٹی کے قیام کیلئے کسانوں سے جبراً اراضی کے حصول کی مذمت کی۔ انہوں نے فارما سٹی کیلئے اراضی سے محروم کسانوں سے ملاقات کرتے ہوئے انصاف دلانے کا تیقن دیا اور کہا کہ کانگریس پارٹی کسانوں کو معاوضہ کی ادائیگی کیلئے جدوجہد کرے گی۔ بھٹی وکرامارکا نے رکن کونسل ٹی جیون ریڈی، آل انڈیا کسان کانگریس کے نائب صدرنشین ایم کودنڈا ریڈی، رکن اسمبلی سیتکا، صدر ضلع کانگریس سی ایچ نرسمہا ریڈی اور کسان کانگریس کے ریاستی صدر انویش ریڈی کے ہمراہ یاچارم میں کسانوں کی اراضیات کا معائنہ کیا۔ کسانوں نے شکایت کی کہ ان سے جبراً اراضی حاصل کرلی گئی ہے اور آج تک معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔ بھٹی وکرامارکا نے چیف منسٹر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کے سی آر چیف منسٹر سے زیادہ لینڈ بروکر کی طرح کام کررہے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے اس طرح کے کئی قائدین کو دیکھا ہے جن کا زوال یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس آئندہ انتخابات میں برسر اقتدار آئے گی اور مخالف کسان جی او کالعدم کردیا جائے گا۔ کانگریس قائدین کے دورہ کے موقع پر کسانوں نے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی اور سخت برہمی کا اظہار کیا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ آنجہانی اندرا گاندھی نے غریبوں میں اراضیات تقسیم کی تھیں لیکن کے سی آر لینڈ بروکر کی طرح کارپوریٹ اداروں کو اراضی حوالے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اراضیات سے کسانوں کا قلبی تعلق ہوتا ہے اور انہیں اراضی سے محروم کرتے ہوئے حکومت نے سخت ناانصافی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرا گاندھی حکومت کی جانب سے تقسیم کردہ 8000 ایکر اور کسانوں کی 12000 ایکر اراضی اس طرح جملہ 20ہزار ایکر زرعی اراضی کارپوریٹ اداروں کے حوالے کردی گئی۔ کانگریس پارٹی ناانصافی پر خاموش نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت سماج کے ہر طبقہ کے ساتھ دھوکہ دہی کا معاملہ کررہی ہے۔ غریبوں، بے روزگاروں اور نوجوانوں کے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے ان کی تکمیل نہیں کی گئی۔ ارکان مقننہ سیتکا اور جیون ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر حکومت غریبوں اور کسانوں کے بجائے صنعتی گھرانوں کے مفادات کا تحفظ کررہی ہے۔ صنعتوں کے قیام کے نام پر حکومت میں شامل افراد فائدے حاصل کررہے ہیں۔