دہلی میں کئی درخواستیں مسترد ، امریکی قونصل خانہ میں طلبہ کی رہبری کی سہولت
حیدرآباد۔11۔اگسٹ(سیاست نیوز) امریکی جامعات میں داخلہ اور امریکی ویزا کے حصول کے لئے کی جانے والی کوششوں کے دوران جامعہ عثمانیہ کے جعلی اسنادات کی تیاری کا پردہ فاش ہوا ہے جبکہ دو ماہ قبل بھی دہلی میں امریکی سفارتخانہ نے کئی ویزا درخواست گذارو ںکو ویزا کی اجرائی روکتے ہوئے جعلی اسنادات داخل کرنے کی کوشش کی شکایت درج کروائی تھی ۔ شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی درخواستوں کے ساتھ فرضی اسنادات کے علاوہ فرضی بینک کھاتوں کی تفصیلات داخل کئے جانے کے بعد امریکی حکام نے دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں موجود ایجوکیشنل کنسلٹنسی کے نام پر چلائی جانے والی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھنی شروع کردی ہے اور کہا جا رہاہے کہ امریکہ جانے کے خواہشمند نوجوانوں سے ان کنسلٹنسی کے ذمہ دارلاکھوں روپئے وصول کرتے ہوئے انہیں جعلی اسنادات دلوانے کے علاوہ بینک کھاتوں میں رقومات نہ ہونے کے باوجود انہیں بینک کے سرٹیفیکیٹ تیار کرواتے ہوئے مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ امریکی قونصل خانہ کے ذرائع کے مطابق امریکہ میں تعلیم کے حصول کے لئے روانہ ہونے کے خواہشمندنوجوانوں کی رہبری کے لئے قونصل خانہ میں علحدہ گوشہ موجود ہے لیکن اس کے باوجود طلبہ جس طرح سے ایجوکیشنل کنسلٹنٹس اور ایجنٹس کی دھوکہ دہی کا شکار ہورہے ہیں وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ذرائع کے مطابق جو طلبہ ایک قونصل خانہ سے مسترد کئے جا رہے ہیں انہیں ایجنٹس دوسرے قونصل خانہ سے انٹرویو کے لئے رجوع کروارہے ہیں جو کہ طلبہ کے مستقبل کے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے خوابوں کو چکنا چور کرسکتا ہے۔قونصل خانہ کے ذمہ داروں نے بتایا کہ نوجوانوں کو ایجنٹس کی دھوکہ دہی اور امریکہ میں موجود فرضی جامعات کی تفصیلات فراہم کرنے اور طلبہ کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کے لئے امریکی سنٹر میں رہنمائی کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود دل خوش کن اشتہارات اور شارٹ کٹ کے عادی نوجوان خانگی ایجنٹس کا نشانہ بن رہے ہیں۔عہدیدارو ں کے مطابق امریکی قونصل خانہ کے تحت یو ایس آئی ای ایف (USIEF)کے ذریعہ پیر تا جمعہ روزانہ صبح 8بجکر 30منٹ سے شام 5 بجے تک امریکی جامعات میں داخلہ اور اپنے مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے امریکی جامعات میں موجود تعلیم کے مواقع کے متعلق تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں اور طلبہ امریکی سنٹر سے یہ تمام تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔دونوں شہرو ںمیں ٹراویل ایجنٹس اور ایجوکیشنل کنسلٹنٹس کی خدمات پر امریکی قونصل خانہ کے ذمہ داروں نے مقامی اداروں اور ایجنسیوں کی مدد سے نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد سے طلبہ کو فراہم کئے جانے والے مواقع کا بعض گوشوں کی جانب سے غلط استعمال کیا جا رہاہے۔م