فرضی کمپنی کے ذریعہ بینک کو دھوکہ دینے والی ٹولی بے نقاب

   

حیدرآباد۔/10 اگسٹ، ( سیاست نیوز) فرضی کمپنی کے ذریعہ بینک کو دھوکہ دینے والی چار رکنی ایک ٹولی کو راچہ کنڈہ پولیس نے بے نقاب کردیا۔ اس ٹولی نے فرضی کمپنی ملازمین کے جعلی دستاویزات کے ذریعہ آئی سی آئی سی آئی بینک کو ایک کروڑ 33 لاکھ 65 ہزار روپئے کا دھوکہ دیا۔ یہ بات کمشنر پولیس راچہ کنڈہ مہیش بھگوت نے بتائی۔ انہوں نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 25 سالہ لوڈا سریکانت ساکن کوکٹ پلی متوطن ورنگل ، 30 سالہ لوکیا ناگیش ساکن میڑپلی اور 27 سالہ جی گوتم ساکن ملا پور میڑچل ضلع کو گرفتار کرلیا۔ اس کیس میں ملوث ایک اور اصل سازشی بکشا پتی فوت ہوچکا ہے ۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ اسپیشل آپریشن ٹیم ملکاجگیری اور ناچارم پولیس نے ایک خفیہ اطلاع پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اس ٹولی کو بے نقاب کیا۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ بینک کو دھوکہ دینے کے لئے دو سال قبل سے تیاری کی گئی تھی اور ایک منظم سازش کے تحت کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے میڑپلی علاقہ میں لیونگ انٹیریئر ڈیزائنر کے نام سے ایک فرضی کمپنی قائم کی گئی اور 53 افراد کے بینک اکاؤنٹس کو آئی سی آئی سی آئی بینک حبشی گوڑہ میں تیار کروایا گیا اور اس بینک میں رقم کو جمع کرتے ہوئے ان ملازمین کی تنخواہیں ادا کی گئی جس کے ذریعہ ان دھوکہ بازوں نے فرضی ملازمین کو قرض کی اجرائی کے اقدامات کروائے گئے اور ایک کروڑ 33 لاکھ 65 ہزار روپئے بینک سے ڈرا کروائے گئے۔ بینک منیجر کو جب کمپنی کی کارکردگی اور لین دین پر شبہ ہوا تو انہوں نے مسئلہ کو پولیس سے رجوع کردیا اور اسپیشل آپریشن ٹیم نے ناچارم پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اس ٹولی کو بے نقاب کردیا۔ پولیس نے ان کے قبضہ سے 93 ڈیبٹ کارڈ، 3 کریڈٹ کارڈ، 60 چیک بکس ، ایک کار اور دیگر اشیاء کو ضبط کرلیا ۔ جب پولیس نے ان ملازمین کے متعلق دریافت کیا تو پتہ چلا کہ بینک میں دی گئی ملازمین کی تفصیلات بھی فرضی ہیں اور یہ اطلاعات اور دستاویزات بے روزگار نوجوانوں کی ہیں۔ کمشنر پولیس نے کارروائی انجام دینے والے پولیس ملازمین کی ستائش کی۔ع