فرقہ پرست طاقتوں سے ملک کو نجات دلاکر رہیں گے: راہول گاندھی

   


دہلی میں مدد کرنا اور تلنگانہ میں بی جے پی سے مدد حاصل کرنا ٹی آر ایس کی عادت، جڑچرلہ میں کارنر میٹنگ سے قد آور لیڈر کا خطاب

محبوب نگر۔/29 اکٹوبر، (ایم اے مجیب کی رپورٹ ) دہلی میں بی جے پی کی مدد اور تلنگانہ میں بی جے پی سے مدد حاصل کرنا ابتداء ہی سے ٹی آر ایس کی عادت ہے۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے قائد راہول گاندھی نے آج شام ضلع محبوب نگر کے جڑچرلہ میں جنکشن پر ایک زبردست کارنر میٹنگ کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ وہ اپنی ’’ بھارت جوڑو یاترا ‘‘ کے ساتھ محبوب نگر سے ہوتے ہوئے شام جڑچرلہ پہنچے۔ انہوں نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو اپنا ایجنڈہ پورا کرنے میں ٹی آر ایس مکمل تعاون کررہی ہے۔ ایک نہیں کئی ایک معاملات میں پارلیمنٹ کو بلوں کو پاس کروانے میں اپنی عددی طاقت سے بی جے پی کو بھرپور تعاون پیش کیا ہے اور پھر بی جے پی کے خلاف بیان بازی کرکے عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اس عظیم جمہوری ملک جو سیکولرازم کی مضبوط بنیادوں پرکھڑا ہے آج فرقہ پرست طاقتوں کا نشانہ بننے نہیں دیں گے۔ آج ملک میں نفرت، تشدد ، بھید بھاؤ اور فرقہ پرستی کا زہر پھیلایا جارہا ہے اس کیلئے اقتدار کی طاقت استعمال کی جارہی ہے لیکن ملک کے عوام ہرگز ایسی طاقتوں کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہماری یاترا کا 52 واں دن ہے اور میں روزانہ 25 کلو میٹر طویل پیدل چلتا ہوا آرہا ہوں لیکن کبھی تھکن محسوس نہیں کی۔ مجھے اس بات کا احساس ہے کہ آپ لوگوں کی محبت اور خلوص نے مجھے کبھی تھکا ہوا محسوس ہونے نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کنیا کماری سے یاترا کا آغاز کیا ہے اور کشمیر تک آپ کی پرخلوص دعاؤں سے پہونچونگا اور جس مقصد کیلئے ہم نے یاترا نکالی ہے وہ ضرور بہ ضرور حاصل ہوگا۔ یاترا سے فرقہ پرست طاقتیں خوف، بوکھلاہٹ اور مایوسی کا شکار ہوچکی ہیں۔ انہوں نے زور دار انداز میں کہا کہ کانگریس عوام پر مسلط کئے جارہے بوجھ اور عوام دشمن پالیسیوں سے عوام کو نجات دلاکر رہے گی، وہ غریبوں کے ساتھ ہے اور فرقہ پرستی کے زہر کو ملک سے ختم کرکے رہے گی۔جمعہ کے دن شام راہول گاندھی نے ضلع محبوب نگر میں داخل ہوتے ہوئے گوپلا پورم میں کارنر میٹنگ سے خطاب کے بعد محبوب نگر کے نواح دھرما پور میں جے پی این سی ای کالج میں شب بسری کی جہاں جے پی این سی ای کے چیرمین روی کمار نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ راہول گاندھی نے کالج کے احاطہ میں واقع آنجہانی جئے پال ریڈی کے مجسمہ پر تلنگانہ پردیش کانگریس کے صدر اے ریونت ریڈی کے ہمراہ گلہائے عقیدت پیش کیا۔ وہ آج صبح 6 بجے جے پی این سی ای کالج سے یاترا کے ساتھ محبوب نگر شہر میں داخل ہوئے۔ پالمور یونیورسٹی، ون ٹاؤن سرکل، اشوک ٹاکیز سرکل، امبیڈکر سرکل بس اسٹانڈ سے ہوتے ہوئے نیو ٹاؤن کے آگے ہوٹل اونتی میں چائے نوشی کی اور ہوٹل کے احاطہ میں لمباڑہ طبقہ کے افراد کے ساتھ خوشگوار ملاقات کی۔ آج صبح کی اولین ساعتوں سے ہی بلالحاظ مذہب و عمر عوام بڑی تعداد میں گروپس کی شکل میں ان کی یاترا کے منتظر دیکھے گئے۔ جگہ جگہ ان کا شاندار استقبال کیا جاتا رہا۔ انہوں نے اسکولی طلبہ کے بس کے قریب پہنچ کر طلبہ سے بات کی۔ عوام کے غیر معمولی جوش و خروش اور زبردست خیرمقدم پر راہول گاندھی کافی مسرور تھے اور مسلسل عوام کا جواب دیتے جارہے تھے۔ انہوں نے اس ماحول کو دیکھتے ہوئے ارادہ کیا کہ وہ جڑچرلہ تک کا سفر پیدل ہی طئے کریں گے۔ وہ 10:30 بجے ینگنڈہ پہنچے اور وہیں توقف کیا اور ظہرانہ یعنی 2 بجے مقامی قائدین اور تنظیموں کے ذمہ داران سے بات کی جن میں پالمورادھیانہ ویدیکا مائناریٹی ریزرویشن فرنٹ جے اے سی کے پروفیسر ششی تارو سے حالات حاضرہ پر بات کی۔ یاترا کے دوران صدر ضلع مسلم لیگ مرزا قدوس بیگ نے بھی وفد کی قیادت کرتے ہوئے خیرمقدم کیا اور یادداشت پیش کی۔ راہول گاندھی کی اس زبردست یاترا میں جئے رام رمیش، ڈگ وجئے سنگھ، محمد علی شبیر، عبداللہ سہیل، محمد اظہر الدین سابق کرکٹ کپتان، مدھو یاشکی گوڑ، بھٹی وکرامارکا، مہیشور گوڑ، جی چنا ریڈی، سمپت کمار، ملوروی، جی مدھوسدن ریڈی، ہریپ کمار گوڑ، عبید اللہ کوتوال، چندرکمار گوڑ، سنجیو مدیراج، ایتا ریڈی، محمد طاہر، خواجہ عظمت علی اور بھاری تعداد میں کانگریس قائدین پڑوسی اضلاع کے شریک تھے۔ آج کی یاترا میں فلم اداکارہ پونم کور بھی شریک تھیں۔ راہول گاندھی پروگرام کے مطابق جڑچرلہ سے قومی شاہراہ44 گولاپلی میں شب بسری کریں گے۔