فلسطینیوں پر اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کی امریکہ نے سخت مذمت کی

   

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آباد کاروں کی پر تشدد کارروائیوں کو “نا قابل قبول” قرار دیا ہے۔وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ “مغربی کنارے میں تشدد پسند آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی شہریوں پر حملے کسی طور قابل قبول نہیں اور انھیں روکا جانا چاہیے”۔ بیان میں اسرائیلی حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تمام طبقات کے تحفظ کیلئے مطلوبہ اقدامات کریں۔ اس سے قبل فلسطینی وزارت صحت نے بتایا تھا کہ مغربی کنارے کے دو شہروں نابلس اور قلقیلیہ کے بیچ واقع قصبے جیت میں مسلح یہودی آباد کاروں کے حملے میں 23 سالہ فلسطینی محمود عبد القادر جاں بحق اور ایک دوسرا فلسطینی زخمی ہو گیا۔ دونوں افراد آباد کاروں کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی (وفا) کے مطابق مسلح یہودی آباد کاروں نے جیت قصبے پر حملہ کیا اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی۔اس حوالے سے اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ “مقامی وقت کے مطابق شام 8 بجے درجنوں اسرائیلی شہری جیت میں داخل ہوئے جن میں بعض نقاب پوش تھے۔ ان افراد نے گاڑیوں اور بعض تنصیبات میں آگ لگائی اور پتھراؤ کرنے کے علاوہ پٹرول بم بھی پھینکے”۔ترجمان نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج اور پولیس کے اہل کاروں نے قصبے میں پہنچ کر اسرائیلی شہریوں کو باہر نکالا۔ اس دوران میں پْر تشدد ہنگامہ آرائی میں شریک ایک اسرائیلی شہری کو حراست میں لے کر تحقیقات کیلئے پولیس مرکز منتقل کر دیا گیا۔اسرائیل نے 1967 سے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ یہاں ایک سال سے زیادہ عرصے سے پْر تشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے تاہم غزہ کی پٹی میں جنگ چھڑنے کے بعد سے صورت حال مزید بگڑ گئی ہے۔
غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم از کم 633 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ یہ فلسطینی حکام کی جانب سے سرکاری طور پر جاری کی گئی تعداد ہے۔ اسرائیلی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسی عرصے کے دوران میں مغربی کنارے میں فلسطینی حملوں میں کم از کم 18 اسرائیلی مارے گئے۔ مرنے والوں میں اسرائیلی فوجی بھی شامل ہیں۔