فوڈ ڈیلیوری بوائے کے مذہبی بنیاد پر انتخاب سے تنازعہ

   


گجرات میں ایک کسٹمر نے ہندو ڈیلیوری بوائے سے غذا روانہ کرنے کی خواہش کی، سوشیل میڈیا پر عوام کی ناراضگی
حیدرآباد ۔13 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) غذا کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن ملک کے مختلف علاقوں میں غذا کے نام پر نفرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ سماج کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا جائے۔ حال ہی میں حیدرآباد میں بعض ایسے واقعات منظر عام پر آئے جس میں کسٹمرس نے فوڈ ڈیلیوری بوائز کے مذہب کی نشاندہی کرتے ہوئے غذا قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اسی طرح کا ایک معاملہ احمد آباد (گجرات) میں منظر عام پر آیا جہاں ایک کسٹمر نے ہندو طبقہ سے تعلق رکھنے والے ڈیلیوری بوائے کے ذریعہ غذا روانہ کرنے کی خواہش کی ہے۔ سوئیگی کے ایک اور کسٹمر نے اس متنازعہ درخواست کے ذریعہ عوام میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ کسٹمر نے کمپنی کے ایپ پر لکھا کہ ’’برائے مہربانی صرف ہندو ڈیلیوری پرسن‘‘۔ اس ہدایت کے ملتے ہی چیرمین تلنگانہ پلیٹ فارم ورکرز یونین شیخ صلاح الدین نے ٹوئیٹر پر سوئیگی سے خواہش کی کہ ایسی درخواستوں کے خلاف کارروائی کریں۔ انہوں نے لکھا کہ ورکرس کے ذریعہ آپ کاروبار کو فروغ دیتے ہیں ، لہذا آپ کی ذمہ داری ہے کہ ورکرز کا تحفظ کریں اور ان کے وقار کو برقرار رکھیں۔ اس واقعہ پر کمپنی کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ۔ ڈیلیوری بوائز کے مذہبی بنیادوں پر انتخاب کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔ حیدرآباد میں سوئیگی ڈیلیوری بوائے کو ایسی صورت حال سے گزرنا پڑا تھا ۔ اگست میں سوئیگی کے ایک کسٹمر نے مسلم ڈیلیوری بوائے کو روانہ کرنے کی مخالفت کی ۔ سوئیگی کے ایک اور کسٹمر نے بھی غذا کی تفصیلات کے ساتھ ہندو ڈیلیوری بوائے کو روانہ کرنے کی درخواست کی۔ صرف سوئیگی ہی نہیں بلکہ ایک اور ڈیلیوری کمپنی زوماٹو کو بھی اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ کمپنی کے سی ای او دیپیندر گوئل نے ٹوئیٹر پر لکھا تھا کہ ہمیں ہندوستان کے نظر یہ پر فحر ہے اور معزز کسٹمرس اور پارٹنرس کی یکجہتی کا احترام کرتے ہیں۔ ہمارے اصولوں کے درمیان آنے والی تجارت کو ترک کرنے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ واضح رہے کہ ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کی سرگرمیوں میں اضافہ کے سبب ہر شعبہ کو مذہبی رنگ سے دیکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ہزاروں کی تعداد میں ڈیلیوری بوائز جن کا تعلق تمام مذاہب سے ہوتا ہے ، 24 گھنٹے کسٹمرس کی خدمات میں مصروف رہتے ہیں۔ ان محنتی ڈیلیوری بوائز کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنا افسوسناک ہے۔ سوشیل میڈیا میں کسٹمرس کی درخواستوں پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ ر