عوام کے اتفاق پر ہی تصویر لی جائے ۔ جلد رپورٹ تیار کرنے ریونت ریڈی کی ہدایت
حیدرآباد 30 ستمبر (سیاست نیوز) ۔ تلنگانہ میں فیملی ڈیجیٹل کارڈس کی اجرائی کے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ فیلڈ سروے میںفیملی تصویر کو لازمی قرار نہ دیا جائے اگر کوئی فیملی تصویر دینے آمادہ ہے تو ہی تصویر حاصل کی جائے۔ ریاست میں 3اکٹوبر تا 7 اکٹوبر فیلڈ سروے میں جملہ 238علاقوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر آج ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا اور نے کہا کہ شہری علاقو ںمیں آبادی کو دیکھتے ہوئے ٹیموں میں اضافہ کا فیصلہ کیا جائے ۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ ریاست میں 119 حلقہ جات اسمبلی کے جملہ 238 علاقوں میں تجرباتی اساس پر سروے کرکے خاندانوں کی تفصیلات اکٹھا کی جائیں گی۔ عہدیداروں کے مطابق ہر حلقہ میں ایک دیہی اور ایک شہری علاقہ کا انتخاب کیا جائے گا اور مکمل شہری آبادی والے حلقہ جات میں 2 وارڈس یا ڈیویژن کا انتخاب کرکے سروے کو مکمل کیا جائیگا۔ چیف منسٹر نے اجلاس میں استفسار کیا کہ یہ پائلٹ پراجکٹ کتنے دنوں میں مکمل کیا جائے گا جس پر عہدیداروں نے بتایا کہ 5 یوم میں 238 علاقوں میں اس کو مکمل کرلیا جائے گا۔چیف منسٹر نے فیملی ڈیجیٹل کارڈس کیلئے نامزد نوڈل آفیسرس کو مشورہ دیا کہ وہ ضلع کلکٹرس کی رہنمائی کریں ۔ عہدیدارو ںنے بتایا کہ اہل خانہ کی شناخت اور نشاندہی کا عمل پہلے ہی مکمل کیا جاچکا ہے اور ان کے رجسٹریشن یا اس میں تبدیلی پر اہل خانہ سے تجاویز حاصل کی جائیں گی۔ چیف منسٹر نے عہدیدارو ںکو ہدایت دی کہ وہ اس پائلٹ پراجکٹ میں کسی طرح کی غلطی نہ کریں اور نہ غلط خانہ پری کی جائے بلکہ 5 دن میں پراجیکٹ کے فوری بعد مثبت نتائج ‘ اور درپیش مشکلات پر رپورٹ تیار کرکے حکومت کو پیش کریں تاکہ اس کی تکمیل اور فیملی ڈیجیٹل کارڈ کی اجرائی میں عملی اقدامات کا آغاز کیا جاسکے ۔ جائزہ اجلاس میں ریاستی وزراء پی سرینواس ریڈی ‘ کونڈا سریکھا ‘ کے علاوہ مشیر برائے چیف منسٹر مسٹر ویم نریندر ریڈی ‘ چیف سیکریٹری شانتی کماری اور دیگر متعلقہ محکمہ جات کے عہدیدار موجود تھے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ 238 علاقوں میں فیلڈ لیول سروے کی تکمیل کے بعد رپورٹ کی بنیاد پر موجود خامیوں کو دور کرکے ریاست میں فیلڈ لیول سروے کا فیصلہ کیا جائے گا۔3