پارلیمنٹ میں مرکزی حکومت نے تلنگانہ کا قرض 4.42 کروڑ روپے ہونے کا اعلان کیا
حیدرآباد۔ 28 مارچ (سیاست نیوز) بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے کہا کہ کانگریس پارٹی جھوٹے وعدوں سے اقتدار میں آئی ہے، کم از کم اب تو بھی صحیح بولنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے عوام سے جھوٹ بولنے کا اعتراف کرلینے کا کانگریس حکومت کو مشورہ دیا۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر بی آر ایس کے ارکان قانون ساز کونسل موجود تھے۔ کویتا نے کہا کہ قرض کے تعلق سے کانگریس کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ تلنگانہ کا قرض 4.42 لاکھ کروڑ روپے ہے جبکہ چیف منسٹر ریاست 8 لاکھ کروڑ روپے کا مقروض ہونے کی جھوٹی تشہیر کرتے ہوئے ایک طرف عوام کو گمراہ کررہے ہیں، دوسری طرف سرمایہ کاری کرنے والوں کو خوفزدہ کررہے ہیں۔ کویتا نے کہا کہ کانگریس جھوٹ بول کر اقتدار میں آئی ہے، کم از کم ابھی تو عوام کو سچ بتانے کا کانگریس حکومت کو مشورہ دیا۔ کانگریس اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتی ہے تو بہتر ہوگا اور اس کا عوام میں وقار بڑھے گا۔ انہوں نے کالیشورم پراجکٹ منہدم ہوجانے کے دعوؤں کو مسترد کردیا اور کہا کہ ریاستی وزیر آبپاشی نے کونسل میں یہ بات بتائی ہے۔ فصلوں کو پانی سیراب کرنے میں کانگریس حکومت ناکام ہوگئی۔ عوامی عدالت میں کانگریس حکومت کی ناکامیوں کو پیش کرنے اعلان کیا۔ کویتا نے کہا کہ 27 اپریل کو ضلع ورنگل میں بی آر ایس پارٹی کا سلور جوبلی جلسہ عام منعقد ہوگا فیس ریمبرسمنٹ کی اجرائی، خواتین کو ماہانہ 2500 روپے مالی امداد لڑکیوں کو اسکوٹی، شادیوں میں ایک تولہ سونے کا تحفہ دینے کا وعدہ کیا گیا جس کو آج تک پورا نہیں کیا گیا۔ بی آر ایس پارٹی کے دباؤ پر اسمبلی میں بی سی تحفظات اور ایس سی زمرہ تبدیلی کی بلز منظور ہوئے ہیں۔ بی آر ایس طویل عرصہ سے اس کا مطالبہ کررہی ہے جس میں بی آر ایس پارٹی کامیاب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹرر اہم عہدے پر فائز رہ کر غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کررہے ہیں۔ 2