مسلکی اختلافات سے امت مسلمہ کو نقصان ہوگا ، قاضیوں کے اجلاس سے صدر نشین وقف بورڈ کا خطاب
حیدرآباد۔30جنوری(سیاست نیوز) ۔ ریاست تلنگانہ میں نظام قضأت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں لائی جائے گی بلکہ اسے مزید بہتر بنانے کے اقدامات کے ذریعہ قاضی صاحبان کے ساتھ مشترکہ طور پر نظام کو مزید بہتر اور مستحکم بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے ریاست تلنگانہ کے تمام قاضی صاحبان کے ہمراہ منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران یہ بات کہی اور قاضی صاحبان کو مشورہ دیا کہ وہ قدیم نظام قضأت کو نقصان پہنچانے کے کسی بھی عمل سے خود کو دور رکھیں۔ انہو ںنے بتایا کہ وقف بورڈ سے منسلک نظام کو اگر منتشر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں امت مسلمہ کا بڑا نقصان ہوگا اور مسلکی اختلافات میں اضافہ ہونے کے علاوہ آپسی دوریاں بڑھیں گی اسی لئے اپنے اسلاف کے اس نظام کو جو علماء اکرام کی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے اسے برقرار رکھنے میں وقف بورڈ کاساتھ دیں۔ قاضی صاحبان کے ہمراہ منعقدہ اس اجلاس میں صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان کے ہمراہ رکن تلنگانہ ریاستی وقف بورڈمولانا سید ابوالفتح بندگی پاشاہ قادری ‘ جناب سید خواجہ معین الدین چیف اکزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کے علاوہ دیگر عہدیداران موجود تھے۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ عدالت میں زیر دوراں مقدمہ میں تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے مؤثر پیروی کی جائے گی اور نظام قضأت کی برقراری کو یقینی بنانے کے لئے ہر طرح کے اقدامات کئے جائیں گے۔ اجلاس میں ریاست تلنگانہ کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے قاضی صاحبان موجود تھے۔ صدرنشین نے دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے قاضی صاحبان کو مشورہ دیا کہ وہ اندرون 5یوم جو نکاح پڑھائے گئے ہیں ان کے دستاویزات جمع کروادیں اور اضلاع میں پڑھائے جانے والے نکاح کے دستاویزات وقف بورڈ میں جمع کروانے کیلئے 10 یوم کی مہلت فراہم کی جائے گی ۔ قاضی صاحبان نے وقف بورڈ کے ذمہ داروں کو تیقن دیا کہ وہ ریاست میں جاری قدیم نظام قضأت کی برقراری کیلئے وقف بورڈ کے ساتھ ہیں اور اس نظام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو وہ کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ اجلاس میں موجود قاضی صاحبان نے اپنے مسائل اور وقف بورڈ کے ساتھ تال میل میں ہونے والی مشکلات کے سلسلہ میں واقف کرواتے ہوئے انہیں حل کرنے کے اقدامات پر بھی توجہ دلوائی جس پر صدرنشین نے ان مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کا تیقن دیا اور کہا کہ ریاست بھر کے تمام قاضی صاحبان کو بک لیٹس کی اجرائی و وصولی کے نظام میں مزید بہتری لانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔م