قومی شاہراہ کی توسیعی میں عبادتگاہوں کے انہدام کی مخالفت

   

صدرنشین وقف بورڈ عظمت اللہ حسینی سے نیشنل ہائی وے اتھاریٹی عہدیداروں کی ملاقات، مشترکہ دورہ کا فیصلہ
حیدرآباد 13 مارچ (سیاست نیوز) قومی شاہراہوں پر موجود اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے مسئلہ پر صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ سید عظمت اللہ حسینی نے آج نیشنل ہائی ویز اتھاریٹی کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ محکمہ جات پولیس، ریونیو اور وقف بورڈ کے عہدیدار بھی اجلاس میں شریک تھے۔ سنگاریڈی تا ناندیڑ اکولہ ڈیویژن اور سنگاریڈی تا پٹن چیرو قومی شاہراہوں کے توسیعی منصوبہ کے تحت بعض اوقافی جائیدادیں زد میں آرہی ہیں جن میں مساجد، درگاہ اور قبرستان شامل ہیں۔ اجلاس میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد اسداللہ، آر ڈی او سنگاریڈی، آر ڈی او آندول، ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر سنگاریڈی، ڈپٹی منیجر نیشنل ہائی وے اتھاریٹی، تحصیلدار پٹن چیرو، تحصیلدار سنگاریڈی، تحصیلدار کندی منڈل، پراجکٹ منیجر نیشنل ہائی وے 65 اور دیگر عہدیدار شریک تھے۔ سڑک کے توسیعی منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے صدرنشین وقف بورڈ نے مذہبی عبادتگاہوں کے انہدام کی مخالفت کی۔ اُنھوں نے کہاکہ ترقی کے نام پر مذہبی عبادت گاہوں کو منہدم کرنے کے بجائے متبادل راستہ اختیار کیا جائے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہاکہ وقف ایکٹ 1995 اور عبادتگاہوں سے متعلق قانون 1991 کے تحت مذہبی مقامات کو علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ تلنگانہ وقف بورڈ نے اراضی کے حصول کے سلسلہ میں ضلع نظم و نسق کو بارہا توجہ دلائی کہ وہ متبادل انتظامات کریں اور وقف بورڈ کی جانب سے مساجد اور درگاہوں کے انہدام کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ طویل اجلاس کے بعد متعلقہ محکمہ جات پر زور دیا گیا کہ وہ حکومت کی جانب سے معاملہ کی یکسوئی تک کوئی کارروائی نہ کریں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صدرنشین وقف بورڈ اور مختلف محکمہ جات کے عہدیدار رمضان المبارک کے بعد علاقہ کا دورہ کریں گے تاکہ قومی شاہراہ کی توسیع کے کاموں کا جائزہ لیا جاسکے۔ 1