قومی شاہراہوں پر گاڑیوں کی رفتار کی ڈیجیٹل نگرانی ، خلاف ورزی پر سخت کارروائی

   

حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا نے قومی شاہراہوں پر گاڑیوں کی تیز رفتار دوڑ پر قابو پانے کے لیے اور ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والوں پر لگام لگانے کے لیے جدید تکنیکی حل متعارف کیا ہے ۔ جس میں اگر کوئی موٹر سیکل سوار بغیر ہیلمیٹ ، ٹریپل رائیڈنگ ، بغیر سیٹ بیلٹ ، سگنل توڑتا ہو انہیں اب براہ راست چالان ان کے گھر پہنچ جائے گا۔ اس سلسلہ میں حکام نے این ایچ 44 حیدرآباد عادل آباد کو پائلٹ پراجکٹ کے طور پر منتخب کیا جہاں سب سے زیادہ حادثات پیش آتے ہیں ۔ حیدرآباد عادل آباد سیکشن جو ملک کی سب سے اہم قومی شاہراہوں میں سے ایک ہے ۔ ڈیجیٹل نگرانی کے ساتھ آٹو میٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن کیمرے ہر دو کلو میٹر پر نصب کئے گئے ہیں ۔ کاماریڈی اور میدک اضلاع میں نصب کئے گئے دو فوٹو کیمرے اور دو ویڈیو کیمرے جو فی الحال کام کررہے ہیں ۔ یہ آلات خود بخود ٹریفک کی مختلف خلاف ورزیوں کا پتہ لگاتے ہیں اور اسے ریکارڈ کرتے ہیں ۔ یہ آلات تیز رفتاری ، بغیر ہیلمیٹ سواری ، بغیر سیٹ بیلٹ اور ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال کا پتہ لگاتے ہیں ۔ ایلچی پور اور چیگنٹا میں نصب دو فوٹو کیمروں نے ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر ماہانہ اوسطا 10 ہزار چالان ریکارڈ کئے اور ویڈیو کیمروں کے ذریعے ماہانہ اوسطاً 15 ہزار چالان اجراء کئے گئے ہیں ۔ اے آئی ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے چالان کی اجراء سے قبل وقت کا حساب لگاتے ہوئے اوسط رفتار کا تعین کرنے کے بعد کئے گئے ہیں ۔ حکام گریٹر حیدرآباد میں اے این پی آر کیمرے بڑی تعداد میں لگانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ اس پراجکٹ کے لیے ابتدائی طور پر 150 تا 200 کروڑ کا تخمینہ لگایا جارہا ہے ۔ ان کیمروں کو نصب کرنے کے بعد ٹریفک پولیس کو سڑکوں پر گاڑیوں کو روک کر چالان کرنے کی ضرورت ختم ہوجائے گا ۔۔ ش m/b