لبنان میں امن فوج کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے ، واشنگٹن کا اسرائیل پر زور

   

واشنگٹن: امریکی وزارت دفاع نے آج پیر کے روز بتایا ہے کہ وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے اسرائیلی ہم منصب یوآو گیلنٹ سے ٹیلی فون پر رابطے میں باور کرایا ہے کہ اسرائیل کا لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج اور لبنانی فوج کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کرنا اہمیت کا حامل ہے۔ اتوار کے روز ہونے والی کال میں آسٹن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان میں فوجی کارروائیوں کا راستہ تبدیل کر کے سفارتی راستہ اختیار کیے جانے کی ضرورت ہے تا کہ شہریوں کو جلد از جلد امن فراہم کیا جا سکے۔امریکی وزارت دفاع کے ترجمان پیٹرک رائیڈر نے ایک بیان میں کہا ہیکہ غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کو ٹھیک کرنے کیلئے فوری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔اس سے قبل اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوژارک نے اتوار کی شام بتایا تھا کہ اقوام متحدہ کی عارضی امن فوج (یونیفل) ابھی تک لبنان میں تمام مقامات پر ہے اور بین الاقوامی تنظیم کا پرچم ابھی تک لہرا رہا ہے۔ ڈوژارک نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس مطالبہ کررہے ہیں کہ بین الاقوامی تنظیم کے افراد اور اس کی املاک کی سلامتی اور امن کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ گوٹیرس کے مطابق یونفیل فورس اور اس کے دفاتر کو نشانہ نہ بنایا جائے اور اس طرح کے حملے جنگی جرم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ گوٹیرس نے اسرائیلی فوج سمیت تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کیا جائے جو امن فوج کو خطرے میں ڈال دے۔