بنگلور: آل انڈیا ویراشائیوا لنگایت مہاسبھا نے کرناٹک ذات کے سروے کی افشا ہونے والی رپورٹ کو واضح طور پر مسترد کردیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ لنگایت ریاست کی آبادی کا تقریباً 35 فیصد ہیں، جو کہ رپورٹ کردہ 11 فیصد سے تین گنا زیادہ ہے ۔ لنگایت مہاسبھا نے فوری طور پر تازہ سروے کا مطالبہ کیا ہے ، جس کی وجہ سے حکمراں کانگریس کے اندر افراتفری پیدا ہوگئی ہے اور اس ہفتے کے آخر میں اس پر بحث ہونے کا امکان ہے ۔ سابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس شنکر بیداری نے منگل کے روز کہا کہ یہ اعداد و شمار من گڑھت ہیں۔ 15 سے زیادہ اضلاع میں لنگایت برادری کی تعداد 10 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار زمینی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے موجودہ رپورٹ کو کرناٹک کے سماجی ڈھانچے کی ’’انتہائی غلط بیانی‘‘ قرار دیا۔ لیک ہونے والی رپورٹ سے ریاست میں سیاسی ہلچل پیدا ہوگئی ہے ۔ اس میں لنگایت کی آبادی 66.3 لاکھ (11 فیصد) بتائی گئی ہے ، جس کیلئے آٹھ فیصد ریزرویشن تجویز کیا ہے ، جب کہ ووکلیگا کی آبادی 61.6 لاکھ (10.3 فیصد) بتائی گئی ہے ، جس کے لیے سات فیصد ریزرویشن تجویز کی گئی ہے ۔ مسلمانوں کی آبادی کا تخمینہ 75.2 لاکھ( 12.6 فیصد) ہے ، جس کے پیش نظر ان کے ریزرویشن کو چار فیصد سے دوگنا کرکے آٹھ فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔ بڑھتے ہوئے مظاہروں کے درمیان نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے منگل کے روز ووکلیگا کمیونٹی کے کانگریس اراکین اسمبلی کی خصوصی میٹنگ بلائی ہے تاکہ ان کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے ۔ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہر کمیونٹی کو عزت محسوس ہو۔ میں نے ابھی تک مکمل رپورٹ نہیں پڑھی ہے ، لیکن ہم مل کر اس پر بات کریں گے ۔
لنگایت برادری سے تعلق رکھنے والے جنگلات کے وزیر ایشور کھنڈرے نے کہا کہ وہ جمعرات کی کابینہ کی میٹنگ سے قبل برادری کے رہنماؤں کی رائے لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس رپورٹ پر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے عوام کی رائے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔