وزیراعظم کی تقاریر زعفرانی جماعت کیلئے نقصاندہ ، 400 کا دعویٰ 200 تک محدود رہنے کا امکان
انڈیا اتحاد میں جوش و خروش، سیاسی تجزیہ نگاروں کا مقابلہ یکطرفہ ہونے کے امکانات مسترد
حیدرآباد ۔ یکم ؍ جون (سیاست نیوز) لوک سبھا انتخابات کیلئے ساتویں مرحلہ کی رائے دہی کے بعد ملک میں انتخابات کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔ اب کی بار 400 پار کا نعرہ دیتے ہوئے انتخابی مہم شروع کرنے والی بی جے پی کی امیدیں آخری مرحلہ کی رائے دہی کے بعد ماند پڑ گئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے بشمول بی جے پی کے دوسرے سرکردہ قائدین پارٹی کے اندرونی انتخابی جائزہ نتائج سے مایوس ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ ملک کے 543 لوک سبھا حلقوں کی انتخابی مہم سب سے پہلے بی جے پی نے شروع کی۔ وزیراعظم مودی، مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کے بشمول مرکزی وزراء نے 43 دن تک انتخابی مہم چلائی۔ تیسری مرتبہ کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے بی جے پی کے 130 ارکان پارلیمنٹ کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ ان کے بجائے نئے چہروں کو انتخابی میدان میں اتارا گیا۔ تمام سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود بی جے پی اپنے مختص کردہ نشانہ کو حاصل کرنے میں ناکام ہونے اور انڈیا اتحاد کا مظاہرہ توقع سے زیادہ بہتر ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ بی جے پی نے تقریباً دیڑھ ماہ تک 7 مرحلوں میں منعقد ہونے والی رائے دہی بی جے پی کیلئے فائدہ مند ہونے کی توقع کررہی تھی۔ تاہم جیسے جیسے انتخابی عمل اختتام کو پہنچا بی جے پی کے اندازے خود بی جے پی کیلئے بھاری پڑ گئے ہیں۔ ایک مرحلہ کی رائے دہی اور دوسرے مرحلہ کی رائے دہی میں ایک ہفتہ کی مہلت ہونے کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور بیروزگاری جیسے موضوعات کو عوام کے درمیان کامیاب طریقہ سے پہنچایا ہے جس سے حکمران جماعت بی جے پی دفاع کرنے میں مصروف ہوگئی۔ اس طرح بی جے پی جہاں پچھڑتے گئی وہی اپوزیشن مستحکم ہوتی رہی۔ جس سے 400 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی اب سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی یا نہیں یہ بھی کہنا مشکل ہوگیا ہے۔ 30 سال بعد بی جے پی پہلی مرتبہ کشمیر میں مقابلہ نہیں کررہی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم کی تقاریر میں نفرت کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ وزیراعظم نے جہاں کانگریس کے انتخابی منشور کو مسلم لیگ کا منشور قرار دیا۔ کانگریس کو ووٹ دینے پر ہماری ماؤں اور بہنوں کے منگل سوتر محفوظ نہ رہنے کا دعویٰ کانگریس ملک کی تمام دولت دراندازی اور جن کے زیادہ بچے ہیں ان میں تقسیم کردینے کی بات کہی۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہیکہ مودی کے تبصروں میں صبر کی کمی اور نفرت میں اضافہ کو دیکھا گیا ہے۔ وزیراعظم کی نفرت انگیز تقاریر بی جے پی کیلئے نقصاندہ ثابت ہونے کے دعویٰ سے یوٹرن لیا ہے۔ ماہرین سیاست نے دعویٰ کیا ہیکہ اس بار مودی کا جادو نہیں چلا ہے بی جے پی 200 تا 220 نشستوں تک محدود رہے گی۔2