سی پی آئی قائدین کی ریونت ریڈی سے ملاقات، گورنر کوٹہ میں پروفیسر کودنڈا رام کی نامزدگی کا اشارہ
حیدرآباد۔/2 جنوری، ( سیاست نیوز) سی پی آئی قائدین کے اعلیٰ سطحی وفد نے آج سکریٹریٹ میں چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی تشکیل کے بعد چیف منسٹر سے سی پی آئی قائدین کی یہ پہلی ملاقات تھی۔ اسمبلی انتخابات کی طرح لوک سبھا انتخابات میں بھی دونوں پارٹیوں کے درمیان مفاہمت جاری رکھنے سے اتفاق کیا گیا۔ چیف منسٹر نے پرجا پالنا کے تحت 6 ضمانتوں پر عمل آوری کے بارے میں سی پی آئی قائدین سے تجاویز طلب کی ہیں۔ سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا، سی پی آئی قومی سکریٹری سید عزیز پاشاہ، ریاستی سکریٹری اور رکن اسمبلی کے سامبا سیوا راؤ، سابق ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی، پی وینکٹ ریڈی، ای ٹی نرسمہا، بالا ملیش، پی پدما، کے شنکر، راج نرسمہا اور ہیمنت اس موقع پر موجود تھے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے انتخابی مفاہمت کے معاہدہ کے تحت سی پی آئی کو قانون ساز کونسل میں 2 نشستیں الاٹ کرنے کا تیقن دیا تاہم کہا کہ فوری طور پر مخلوعہ نشستوں میں ارکان اسمبلی زمرہ کی محض 2 نشستیں ہیں۔ اس کے علاوہ گورنر کوٹہ کی 2 اور مجالس مقامی اور گریجویٹ زمرہ جات سے ایک ، ایک نشست ہے۔ چیف منسٹر نے آئندہ مرحلہ میں سی پی آئی کو کونسل میں نمائندگی کا یقین دلایا۔ انہوں نے گورنر کوٹہ کی نشستوں میں تلنگانہ جنا سمیتی کے سربراہ پروفیسر کودنڈا رام کو نامزد کرنے کا اشارہ دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ نظم و نسق کو متحرک کرنے کے اقدامات کررہے ہیں تاکہ 6 ضمانتوں پر موثر عمل آوری ہوسکے۔ چیف منسٹر نے سی پی آئی قائدین سے کہا کہ وہ بھی حکومت کو اپنی تجاویز پیش کرسکتے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد نظم و نسق کے انداز کارکردگی میں بہتری پیدا کی گئی ہے اور وزراء اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے نظم و نسق کو متحرک بنارہے ہیں۔ واضح رہے کہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے سی پی آئی کو کتہ گوڑم کی نشست الاٹ کی تھی اور ریاستی سکریٹری سامبا سیوا راؤ اس حلقہ سے منتخب ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ کونسل کی دو نشستوں کیلئے سی پی آئی کے کئی قائدین نے اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ سی پی آئی کی جانب سے کونسل کے مضبوط امیدواروں میں ڈاکٹر نارائنا، عزیز پاشاہ اور چاڈا وینکٹ ریڈی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق سی پی آئی قائدین نے اضلاع میں نظم و نسق کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے تجاویز پیش کی جن میں بعض عہدیداروں کی نشاندہی بھی کی گئی۔1