لکچرلہ اور حکیم پیٹ میں اراضی کے حصول معاملہ میں مداخلت سے ہائیکورٹ کا انکار

   

سنگل جج کے قطعی فیصلہ تک جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کی ہدایت
حیدرآباد 18 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ کے کارگذار چیف جسٹس سجے پال اور جسٹس وائی رینوکا پر مشتمل بنچ نے وقارآباد کے لکچرلہ اور حکیم پیٹ مواضعات میں انڈسٹریل پارکس کے قیام کے لئے اراضی کے حصول پر سنگل جج کی جانب سے عائد کردہ حکم التواء میں کسی بھی مداخلت سے انکار کردیا۔ ڈیویژن بنچ نے تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن، ریاستی حکومت اور دیگر فریقین کو ہدایت دی کہ وہ کسانوں کی اراضیات کے سلسلہ میں جوں کا توں موقف برقرار رکھیں۔ کسانوں نے اراضی کے حصول کے لئے حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا۔ ڈیویژن بنچ نے کہاکہ سنگل جج کی جانب سے قطعی فیصلہ سنائے جانے تک جوں کا توں موقف برقرار رکھا جائے۔ واضح رہے کہ کسانوں نے انڈسٹریل پارک کے لئے اراضی حوالہ کرنے سے انکار کردیا جبکہ حکومت نے مختلف مراعات کا پیشکش کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کیا۔ ہائیکورٹ کے سنگل جج نے اراضی کے حصول کی کارروائی پر حکم التواء جاری کیا۔ سنگل جج کے احکامات کو حکومت نے ڈیویژن بنچ پر چیلنج کیا۔ ریاستی حکومت نے سنگل جج کے احکامات کو کالعدم کرنے کی درخواست کی تاہم ڈیویژن بنچ نے مداخلت سے انکار کیا۔ ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی نے بتایا کہ انڈسٹریل پارک کے لئے درکار 350 ایکر اراضی میں نصف اراضی حاصل کرلی گئی ہے۔ انھوں نے کہاکہ سنگل جج کے حکم التواء سے باقی اراضی کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ واضح رہے کہ حکومت نے 29 نومبر 2024 ء کو نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے لکچرلہ گاؤں میں 110 ایکر 32 گنٹہ اراضی جبکہ حکیم پیٹ میں 351 ایکر 10 گنٹہ اراضی کے حصول کے لئے احکامات جاری کئے۔ بعض مواضعات میں کسانوں نے اراضی حوالہ کرنے سے اتفاق کیا۔ 1