ماویسٹ تحریک قریب الختم ۔ ریاست کے صرف چار سینئر ماؤیسٹ روپوش : ڈی جی پی شیودھر ریڈی کا انٹرویو
ایس ا یم بلال
حیدرآباد 21 اپریل :ڈائرکٹر جنرل پولیس تلنگانہ بی شیودھر ریڈی نے کہا کہ ملک بھر میں ماؤسٹوں کے ہتھیار ڈالنے اور قومی دھارے میں شمولیت میں تلنگانہ سرفہرست ہے اور ماؤسٹ تنظیم ختم کے برابر ہے۔ انہوں نے نمائندہ سیاست کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ حکومت سے روپوش ماؤسٹ کیڈر کو قومی دھارے میں شامل ہونے کی اپیل کے نتیجہ میں ماؤسٹوں کی اکثریت کیڈر نے ہتھیاروں کے ساتھ خودسپرد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پولیس کے شعبہ اسپیشل انٹلیجنس برانچ (SIB) سے ماؤسٹ کیڈر پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے اور انہیں قومی دھارے میں شامل ہونے پر بہبود کا وعدہ کیا گیا جس کے نتیجہ میں ماؤسٹوں کے بڑے لیڈرس نے بھی تلنگانہ پولیس کے روبرو خودسپردگی اختیار کی ۔ شیودھر ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں ماؤسٹ تنظیم کا وجود ختم ہوگیا ہے لیکن ریاست سے تعلق رکھنے والے چار سرگرم سینئر ماؤسٹ لیڈر ہنوز روپوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بھی قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بحیثیت ڈی جی پی ان کے ذمہ داری سنبھالنے کے چھ ماہ کے عرصہ میں جملہ 312 ماؤیسٹوں نے ہتھیار ڈال دئے ہیں جبکہ اکٹوبر 2024 سے اب تک 760 ماویسٹوں نے ہتھیار ڈالتے ہوئے قومی دھارے میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ انہوں نے لاء اینڈ آرڈر کے علاوہ روڈ سیفٹی کے امور پر بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ تلنگانہ پولیس کی خصوصی مہم جس کا عنوان Arrive Alive (سلامتی کا سفر) کامیاب طور پر شروع کیا گیا جس کے ذریعہ عوام میں محفوظ ڈرائیونگ سے متعلق شعور بیداری کی گئی ۔ ڈی جی پی نے کہا کہ پہلی مرتبہ پولیس کے ایک پروگرام کو حکومت کے مرکزی پروگرام پرجا پالنا میں 7 دن کیلئے شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ریاست بھر میں قتل میں 800 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ سڑک حادثات میں 7500 شہریوں نے جان گنوائی تھی۔ ڈی جی پی نے کہا کہ ارائیو الائیو پروگرام کے ذریعہ عوام کو یہ بتایا گیا کہ محفوظ ڈرائیونگ میں ہیلمٹ کا استعمال صرف گاڑی چلانے والے کو ہی نہیں بلکہ پیچھے بیٹھنے والے پر بھی لازم ہے اور کار ڈرائیو کرتے وقت ڈرائیور کے سیٹ بیلٹ کے استعمال کے علاوہ پیسنجر سیٹ پر سفر کرنے والے افراد کو بھی سیٹ بیلٹ کا استعمال کرنا چاہئے کیونکہ اس سے مہلک حادثات میں جان جانے کی کا خدشہ کم ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ارائیو الائیو پروگرام میں محفوظ ڈرائیونگ ، ڈرائیونگ سے پہلے احتیاطی تدابیر ، لین ڈسپلن ، سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کی اہمیت ، تیز رفتاری سے گریز کرنا ، شراب ، منشیات اور تھکاوٹ کے دوران گاڑی چلانے میں احتیاط وغیرہ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ پولیس منشیات کے خلاف بھی آئینی پنجے سے نمٹ رہی ہے اور اس کا کاروبار اور استعمال کرنے والوں کو نہیں بخشا جارہا ہے ۔ شیودھر ریڈی نے کہا کہ ڈرگس کے استعمال پر روک لگانے خصوصی شعبہ بھی قائم کیا گیا ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اسی طرح سائبر کرائمس جو ملک میں جن کا بڑھتا رجحان ہے ، سے نمٹنے خصوصی حکمت عملی تیار کی ہے جس میں سینکڑوں دھوکے بازوں کو سلاخوں کے پیچھے بھیجا جارہا ہے جبکہ ان جرائم کیلئے استعمال بینک کھاتوں پر بھی کارروائی کی جارہی ہے ۔ k/b/k