نیویارک: امریکہ کے ایک معروف اخبار نے بتایا ہے کہ ہندوستانی قیادت نے مالدیپ کے صدر محمد معزو کو برطرف کرانے کی سازش کی تھی اور اس مقصد کیلئے مالدیپ کی پارلیمنٹ کے ارکان میں مجموعی طور پر 60 لاکھ ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔ روزنامہ واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہیکہ جرائم پیشہ افراد کے گروہوں کو بھی رقوم دی گئی تھیں۔ یہ رقوم ہندوستان سے بھیجی گئی تھیں۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہیکہ مالدیپ کی اپوزیشن جامعت مالدیوین ڈیموکریٹک پارٹی نے ہندوستان سے 60 لاکھ ڈالر حاصل کیے تھے۔ یہ سازش 2024 کے اوائل میں تیار کی گئی تھی۔ بعض وجوہ کی بنیاد پر یہ سازش ناکام رہی۔’’جمہوریت کی تجدید کا اقدام‘‘ کے زیرِعنوان تیار کی جانے والی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مالدیپ کی پارلیمنٹ کے 40 ارکان کو رشوت دینے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ ان میں محمد معزو کی پارٹی کے چند ارکان بھی شامل تھے۔ ہندوستانی قیادت صدر محمد معزو کے مواخذے کی راہ ہموار کر رہی تھی۔مالدیپ کے سابق صدر محمد نشید نے کہا ہے کہ اْنہیں ایسی کسی بھی سازش کا علم نہیں تھا اور یہ بھی کہ ہندوستان کسی ایسی کسی بھی سازش کی حمایت اور مدد نہیں کرے گا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق چند فوجی افسران اور دیگر سیاستدانوں کو بھی رشوت دینے کی تیاری کی گئی تھی۔