مالیگاؤں کیس:مجسٹریٹ کو گواہی کیلئے طلب کرنے کی گزارش

   

ممبئی: مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے میں ابتک 321 سرکاری گواہان کی گواہی عمل میں آچکی ہے اور استغاثہ کی جانب سے عدالت میں دی گئی گواہان کی فہرست کے مطابق اب صرف دو سرکاری گواہان کی گواہی ہونا باقی ہے لیکن اسی درمیان آج بم دھماکہ متاثرین نے قومی تفتیشی ایجنسی سے درخواست کی ہے کہ سرکاری گواہان کے سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت بیان درج کرنے والے مجسٹریٹ کو گواہی کیلئے خصوصی عدالت میں طلب کرے۔خصوصی این آئی اے عدالت میں بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ شاہد ندیم (جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے آج سپرنٹنڈنٹ آف پولس قومی تفتیشی ایجنسی (ممبئی) کو بذریعہ ایمیل ایک درخواست ارسال کی ہے جس میں تحریر ہیکہ 164 کے تحت بیان درج کرنے والے سات سرکاری گواہان دوران گواہی اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوگئے اور انہوں نے عدالت میں کہا کہ اے ٹی ایس نے ان سے جبراً بیانات دینے کیلئے دباؤ بنایا تھا۔ اب جبکہ بم دھماکہ سازشی میٹنگ کے اہم گواہان اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوچکے ہیں، ان گواہان کے بیانات کا اندارج کرنے والے مجسٹریٹ کو عدالت میں گواہی کیلئے طلب کرنا چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے درخواست میں مزید لکھا ہے کہ یہ چونکا دینے والی بات ہے کہ سات میں سے دو گواہان تو ایسے ہیں جنہوں نے 164 کے دونوں بیانات سے انحراف کیا، ایک بیان اے ٹی ایس نے ریکارڈ کروایا تھا جبکہ دوسرا این آئی اے نے۔گواہان کا 164 کے تحت دیئے گئے بیانات سے ایسے منحرف ہوجانا عدلیہ پر بھی ایک دھبہ ہے۔ عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ این آئی اے نے منحرف ہونے والے گواہان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 191 کے تحت مقدمہ بھی درج نہیں کیا۔