عثمان نگر اور دیگر کالونیوں کو بارش سے خطرہ ، نالے کی تعمیر کے کام کی سست رفتاری
حیدرآباد۔26۔ مئی (سیاست نیوز) مانسون کی آمد کو محض چند دن باقی ہیں ، ایسے میں جل پلی میونسپلٹی کے اطراف و اکناف کی کالونیوں اور خاص طور پر عثمان نگر کے مکینوں میں تشویش کا آغاز ہوچکا ہے۔ ہر سال بارش کے ساتھ ہی پانی مکانات میں داخل ہوجاتا ہے اور کئی کالونیاں پانی میں محصور ہوجاتی ہیں۔ حکام کی جانب سے ہر سال پانی کی نکاسی کے بارے میں تیقنات دیئے جاتے ہیں لیکن آج تک مستقل حل تلاش نہیں کیا گیا ۔ عثمان نگر اور اطر اف کی کالونیوں کے عوام ابھی سے مانسون کے بارے میں فکرمند ہیں۔ نالوں کی ترقی اور تعمیر سے متعلق پروگرام پر عمل آوری نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں 2000 ء سے یہ علاقے ہر سال مانسون کی آمد کے ساتھ ہی سنگین مسائل سے دوچار رہے ہیں۔ عثمان نگر ، عرفات کالونی ، مریم کالونی ، باوزیر کالونی ، امرین کالونی ، نبیل کالونی اور دیگر علاقے جل پلی میونسپلٹی کے تحت آتے ہیں جو ہر سال نالوں کی عدم تعمیر کے نتیجہ میں سنگین مسائل کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ اسٹراٹیجک نالہ ڈیولپمنٹ پراجکٹ کے تحت گزشتہ سال کمری کنٹہ سے گرم چیروو تک نالے کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن یہ کام ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے۔ اپریل 2021 ء میں 10.66 کروڑ کی لاگت سے پہلے مرحلہ کے کاموں کی منظوری دی گئی جبکہ جاریہ سال مارچ میں کاموں کا آغاز ہوا۔ منظوری کے ایک سال بعد کاموں کے آغاز سے سست رفتاری کا اندازہ ہوتا ہے ۔ نالے کی تعمیر کے تحت 2000 میٹر کا تعین کیا گیا لیکن 640 میٹر کاموں کا آغاز ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف 280 میٹر کام کی تکمیل ہوئی ہے۔ مابقی کاموں کی تکمیل میں تاخیر کے پیش نظر کالونیوں کے عوام میں خوف کا ماحول ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں دوسرے مرحلہ کے تحت 900 میٹر کے کاموں کی منظوری دی ہے جس پر 27.26 کروڑ کا خرچ آئے گا۔ر