عبادات سے بے نیاز خواتین و نوجوانوں کا تفریحی سرگرمیوں میں مشغول ہونا لمحہ فکر!
حیدرآباد۔14۔مارچ(سیاست نیوز) ماہ رمضان المبارک کے دوران عبادتوں اور اللہ کو راضی کرتے ہوئے دنیا و آخرت کی کامیابی کو یقینی بنانے پر نوجوانوں کو توجہ مرکوز کرنی چاہئے لیکن ماہ رمضان المبارک کے دوران شاپنگ فیسٹیول اور فوڈ فیسٹیول کے انعقاد کے علاوہ ان فوڈ فیسٹیول و شاپنگ فیسٹیول کی تشہیر امت کے لئے لمحۂ فکر بنتی جا رہی ہے اس کے باوجود اس سنگین مسئلہ پر کسی بھی گوشہ سے کوئی آواز نہ اٹھائی جانا انتہائی افسوسناک ہے۔ ملک کے موجودہ حالات اس طرح کی کسی بھی حرکتوں کی مسلمانوں کو اجازت نہیں دیتے اور ان حالات میں مسلمانوں کا یہ طرز عمل ان کی بے حسی اور لاپرواہی کی دلیل بننے لگا ہے۔ملک بھر میں شہر حیدرآباد کے رمضان المبارک کی ستائش اور تعریف کے لئے یہاں کے کھانے اور یہاں منعقد ہونے والی دعوتوں کی مثال دی جانے لگی ہے ہیں۔ملک کی کئی ریاستوں بلکہ خود ریاست تلنگانہ اور شہر کے اطراف کے علاقوں میں مسلمانوں کا عرصۂ حیات تنگ کرنے اور ان کی بستیوں کو اجاڑدیئے جانے کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ راجستھان میں مسلم نوجوانوں کی ہلاکت کے علاوہ میدک پولیس کی حراست میں قدیر خان کی ہلاکت کے واقعہ اور گذشتہ ایک برس کے دوران مسلم نوجوانوں کی گرفتاری اور ان کے گھروں کو بلڈوزر کے ذریعہ منہدم کرنے کے واقعات کے باوجودشہر میںفوڈ فیسٹیول ‘ شاپنگ فیسٹیول اور اوباش سرگرمیوں ملوث رہنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔دونوںشہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں علماء برادری کو آئندہ رمضان المبارک کے دوران فوڈ فیسٹیول اور شاپنگ فیسٹیول کے نام پرفروغ دی جانے والی تفریحی سرگرمیوں کے رد کے لئے مہم چلاتے ہوئے اپنے خطبہ وبیانات کے ذریعہ شعور اجاگر کرنا چاہئے۔ شہر کے مختلف مقامات پر منعقد کئے جانے والے فوڈ فیسٹیول اور ان فوڈ فیسٹیول کی تشہیر کے لئے بے ہودہ اور چھچھورے نوجوانوں کی خدمات کے حصول کے ذریعہ امت کے نوجوانوں کو راغب کرتے ہوئے انہیں ماہ رمضان المبارک کی ان اہم ساعتوں سے استفادہ کے بجائے انہیں تفریح کی دعوت دی جار ہی ہے جن میں اگر وہ رجوع الی اللہ ہوتے ہوئے بارگاہ ایزدی میں سربسجود ہوکر مومن کے ہتھیار ’دعاء‘ کا استعمال کرسکتے ہیں۔ماہ رمضان المبارک کی ساعتوں میں جہاں اللہ رب العزت نے امت محمدیہ ﷺ کو عبادتوں کا 70 گنا ثواب عطا کرنے کا وعدہ کیا ہے ان ساعتوں کو ضائع کرنے کے لئے نت نئے طریقہ کار اختیار کئے جانے لگے ہیں چند برس قبل تک ماہ رمضان المبارک کے دوران بعد تراویح کھیل کود کی سرگرمیوں کا انعقاد عمل میں لایا جانے لگا تھا اور گذشتہ چند برسوں سے ان ایام مبارکہ کو لذیذ پکوانوں اور کھانوں کی نذر کیا جانے لگا ہے۔ متفکر شہریوں کی جانب سے بھی اب یہ کہا جا رہاہے کہ شہر حیدرآباد میں ماہ رمضان المبارک کے دوران کھانے پینے کی اشیاء کی فروخت اور تفریحی سرگرمیوں میں ہونے والا اضافہ تشویشناک حد تک بڑھتا جا رہاہے اور ان حالات میں والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں کسی ایسے کام اور گروپ کا حصہ بننے سے روکنے کے اقدامات کریں جو کہ امت کی رسوائی کا سبب بن رہا ہے۔فوڈ فیسٹیولس میں ان یوٹیوبرس اور فیس بک پیج چلانے والوں کو مفت غذاء فراہم کرتے ہوئے نوجوانوں میں بے حیائی کو فروغ دیا جانے لگا ہے اور بیشتر نوجوان لڑکے لڑکیاں ان مقامات پر آزادانہ ہنسی مذاق کے ذریعہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ تشہیری خدمات انجام دینے کے لئے ایسا کررہی ہیں ۔علمائے اکرام اور ذمہ داران ملت اسلامیہ اگر ماہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی اس طرح کی سرگرمیوں کی مخالفت اور ان کے متعلق نوجوانوں میں شعور اجاگر کرتے ہیں تو ایسی صورت میں فوڈ فیسٹیول اور شاپنگ فیسٹیول کے نام پر پھیلائی جانے والی برایوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔م