متنازعہ فیصلہ ’ مجھے رائے دینے کی اجازت نہیں : اگروال

   

سنچورین ۔میانک اگروال کو شاید گیند کے اچھال اور زاویہ کے بارے میں شک تھا لیکن ری پلے دوسری صورت میں ظاہر ہوا اور دائیں ہاتھ کے کھلاڑی کو 60 رنز پر پویلین واپس جانا پڑا۔ اس معاملے پر اگروال نے کہا کہ انہیں اجازت نہیں ہے متنازعہ آوٹ ہونے کے بارے میں گہرائی میں جاؤں ۔انہوں نے مزید کہا کہ میری رائے کے اظہار کرنے کی مجھے اجازت نہیں ہے۔ ہندوستانی اوپنر میانک اگروال تھوڑا پریشان نظر آئے جب ری پلے میں تین سرخ رنگ دکھائے گئے جوکہ لائن میں پچنگ، لائن میں اثر اور وکٹ ہٹ کرنا تھا اور تھرڈ امپائر نے فیلڈ امپائرکو مشورہ دیا کہ وہ ناٹ آؤٹ کے اپنے اصل فیصلے کو واپس لے جب کہ گیند کی پچ اور اثر کے بارے میں بہت کم امکان تھا، اگروال (آن فیلڈ امپائر اور بہت سارے ہندوستانی شائقین) کو شاید گیند کے اچھال کے بارے میں شک تھا لیکن ری پلے نے دوسری صورت میں ظاہر کیا اور دائیں ہاتھ کے کھلاڑی کو واپس جانا پڑا۔ اس معاملے پر اگروال نے کہا کہ انہیں اس میں گہرائی تک جانے کی اجازت نہیں ہے۔اگروال نے میچ کے بعد ورچوئل پریس کانفرنس میں کہا، ٹھیک ہے، سچ پوچھیں تو مجھے اس پر اپنی رائے ظاہر کرنے کی اجازت نہیں ہے اور میں اسے چھوڑ دوں گا کیونکہ میں خراب کتابوں میں نہیں جانا چاہتا ۔یہ واقعہ اتوارکو دوسرے سیشن میں ہندوستانی اننگز کے 41 ویں اوور میں ہوا جب جنوبی افریقہ کیفاسٹ بولر لونگی نگیڈی کی گیند پر آوٹ دیا گیا اور اس وقت تک اگروال شاندار کھیل رہے تھے جب انہوں اس گیند پر فلک شاٹ کھیلا اور یہ گیند اس کے پیڈ پر لگی اور جنوبی افریقہ کے کھلاڑی زبردست اپیل کی ۔ امپائر نے سر ہلایا لیکن ڈین ایلگر ریویو کے لیے گئے جو کہ درست فیصلہ ثابت ہوئی۔اگروال نے کے ایل راہول کے ساتھ 117 رنز کا اہم آغاز کیا ۔اس متنازعہ فیصلہ پر اگروال نے مزید کہا کہ سچ پوچھیں تو منصوبہ بہت نظم و ضبط کا تھا اور ایسی گیندوں کو کھیلنے کی کوشش کرنا تھی جو اسٹمپ کے قریب تھیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ گیندیں چھوڑی جائیں اور مجھے خوشی ہے کہ ہم ایسا کرسکے۔ آخر میں 272/3 پر رکھنا بیٹنگ شعبہ کو سہرا جاتا ہے ۔ ہم نے واقعی خود کو بہت اچھی طرح سے استعمال کیا، بات یہ ہے کہ جو کھلاڑی جم جاتے ہیں انہیں آگے بڑھنا پڑتا ہے۔