بلقیس بانو اجتماعی عصمت ریزی کیس…
حکومت کا فیصلہ خواتین کی عصمت سے کھلواڑ کرنے والوں کو چھوٹ کے مترادف
حیدرآباد۔16۔اگسٹ(سیاست نیوز) ملک میں حکومت گجرات کیا مثال قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے! گھناؤنے جرم کے مرتکبین کو معافی دیتے ہوئے انہیں ’آزادی کے امرت مہوتسو ‘ کے نام پر رہا کرتے ہوئے کیا پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے! رکن پارلیمنٹ حیدرآباد و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی نے بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت ریزی کے مجرمین کو 15 اگسٹ کو رہاکئے جانے کے فیصلہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گجرات کا فیصلہ ملک میں خواتین کی عصمت سے کھلواڑ کرنے والوں کو کھلی چھوٹ فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے بتایاکہ تمام مجرمین جنہیں عمر قید کی سزاء سنائی گئی تھی ان کی رہائی کا فیصلہ انتہائی بد بختانہ ہے۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہا کہ لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم نریندر مودی خواتین کو خود مکتفی بنانے اور ان کی عزت و احترام کی بات کر رہے ہیں اور دوسری جانب بلقیس بانو کی عصمت ریزی کرنے والوں اور اس کی معصوم بچی کا قتل کرنے والوں کی رہائی کا فیصلہ کیا جا رہاہے۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم نے مسلم مجاہدین آزادی اشفاق اللہ خان اور بیگم حضرت محل کا اپنی تقریر میں حوالہ دیا ہے تو کوئی بڑا کام نہیں کیا ہے بلکہ مسلم مجاہدین آزادی سے تاریخ بھری پڑی ہے اور موجودہ حکومت ان لوگوں کو مجاہدین آزادی کے زمرہ میں شمار کر رہی ہے جو انگریزوں سے معافی کے طلب گار رہے ہیں ۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے کشمیرمیں پنڈت برادارں پر ہونے والے قاتلانہ حملہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے خصوصی موقف کو برخواست کئے جانے اور مرکزی زیر انتظام علاقہ قرار دیئے جانے کے بعد کشمیر میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اس پر وزیر اعظم ‘ وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کے علاوہ مرکزی حکومت کی جانب سے کشمیر کے امور کے نگران لیفٹیننٹ گورنر کو جواب دینا چاہئے ۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ بلقیس بانو کے مجرمین کی رہائی کے قانونی امور کا جائزہ لیا جا رہاہے اور اگر اس میں کوئی گنجائش ہوتی ہے تو ایسی صورت میں وہ لائحہ عمل تیار کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ گجرات فسادات کے دوران پیش آئے اس گھناؤنے واقعہ میں ملوث افراد کو جنہیں بمبئی ہائی کورٹ نے سزاء سنائی تھی ان کو رہاکردیا جاتا ہے جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ایک مخصوص طبقہ کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کی پشت پناہی کر رہی ہے ۔انہو ںنے استفسار کیا کہ کیا بلقیس بانو ان لوگوں کی بہن نہیں ہے جو لال قلعہ سے خواتین کی عظمت اور ان کی عزت و ناموس کی بات کر رہے ہیں !