حیدرآباد۔4۔فروری(سیاست نیوز ) مجلس اتحادالمسلمین تلنگانہ کے آئندہ انتخابات میں 50 نشستوں پر مقابلہ کرے گی اور 15 ارکان اسمبلی کو منتخب کروائے گی۔ قائد ایوان مقننہ مجلس جناب اکبر الدین اویسی نے گورنر کے خطبہ پر مباحث کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے تحریک تشکر مباحث کے دوران ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ کی جانب سے مجلس کے 7 ارکان اسمبلی پر کئے گئے ریمارک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ریاستی وزیر کو اس بات کا تیقن دیتے ہیں کہ آئندہ اسمبلی میں مجلس کے 7 ارکان اسمبلی نہیں ہوں گے بلکہ مجلس ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں 50نشستوں پر مقابلہ کرے گی اور اس سلسلہ میں وہ اپنی جماعت کے صدر سے بات کریں گے۔ ریاست تلنگانہ میں مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے 35تا50 نشستوں پر مقابلہ کی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں لیکن پہلی مرتبہ کسی مجلسی قائد کی جانب سے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا گیا ہے اور اس کے لئے ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ کے ریمارک کو بنیاد بناتے ہوئے جناب اکبر الدین اویسی نے کہا کہ وزیر نے جو 7 ارکان کا ریمارک کیا ہے اسے وہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے بعد یہ کہہ رہے ہیں کہ آئندہ اسمبلی میں وہ مجلس کے 15 ارکان اسمبلی کے ساتھ داخل ہوں گے اور ان 15 ارکان اسمبلی کے انتخاب کو یقینی بنانے کے لئے وہ صدر مجلس سے بات کرتے ہوئے 50 نشستوں پر مقابلہ کے لئے انہیں آمادہ کریں گے۔اگر وہ آمادہ ہوتے ہیں تو 50نشستوں پر مقابلہ اور 15 نشستوں پر کامیابی کے بعد بھی مجلس بھارت راشٹر سمیتی کے ساتھ ملکر اس ایوان میں کام کرے گی۔ جناب اکبر الدین اویسی کی جانب سے آئندہ اسمبلی انتخابات کے دوران 50نشستوں پر مقابلہ کے اعلان اور اس پر صدر مجلس سے تبادلہ خیال کو سرکاری حلقوں میں سنجیدگی سے نوٹ کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ایوان میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی عدم موجودگی اور کے ٹی راما راؤ کی جانب سے مجلس کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں اکبر الدین اویسی نے اسمبلی انتخابات میں 50نشستوں پر مقابلہ کی بات کہی ہے ۔ روزنامہ سیاست نے 22 اکٹوبر 2022کے شمارہ میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے تلنگانہ کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں 50نشستوں پر مقابلہ کا امکان ہے اور مجلس آئندہ انتخابات میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود کے علاوہ ریاست میں اقلیتی غالب آبادی والے حلقہ جات سے بھی مقابلہ کرسکتی ہے۔