حیدرآباد۔ 10 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ نے بسوں اور لاریوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ ، ڈرائیونگ لائسنس، نئی گاڑیوں کے رجسٹریشن اس طرح کوئی بھی کام ہو، محکمہ ٹرانسپورٹ کے آفسوں سے رجوع ہونا پڑتا ہے جہاں پر ہر کام کیلئے قیمت مقرر ہے۔ ان معاملات میں آفیسرس، عہدیداروں اور ملازمین کا راست طور پر رول کہیں نظر نہیں آتا۔ ایجنٹ، کمیونٹی کے نمائندے اور ڈیلرس اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عہدیداروں پر الزام ہے کہ ان وصولیوں کیلئے چند ملازمین سے خدمات حاصل کی جارہی ہے۔ دفاتر بند ہوجانے کے بعد حساب کتاب کیا جارہا ہے۔ ورنگل کے بشمول پانچ اضلاع میں شام کے وقت ہوٹلوں میں رقم کی تقسیم کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ ایجنٹس، نئی گاڑیوں کے رجسٹریشن میں ڈیلر اور حکام کے درمیان پل کا کام کرتے ہیں۔ ڈیلرس گاڑی خریدتے وقت اضافی رقم وصول کررہے ہیں۔ ایک بار رجسٹریشن ہونے کے بعد اکاؤنٹس کا تصفیہ کرنے کیلئے ایجنٹ عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہیں۔ ڈرائیونگ لائسنس کی اجرائی میں ڈرائیونگ اسکول انتظامیہ کی سازباز ہوتی ہے۔ اسکول ، کالیجس بسوں کے لین دین میں بھی چند مقامات پر کمیونٹی کے نمائندے اہم رول ادا کررہے ہیں۔ اس تناظر میں محکمہ ٹرانسپورٹ نے حال ہی میں آمدنی سے زائد اثاثوں کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی ) کے حکام نے متحدہ ورنگل کے ڈی ٹی سی ،سرینواس کو گرفتار کیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹیشن کے دفتر کے آس پاس ایجنٹس کے دفاتر ہیں۔ ان کے ذریعہ سے کارروائی کرانے والوں کو درخواست فارم پر ایک کوڈ لکھا جاتا ہے۔ اگر یہ کوڈ ہو تو کام آسانی سے ہوتا ہے، ورنہ عوام کو دفاتر کے مسلسل چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ ریت کے ٹرک ، ٹریکٹر ، اسکول بسوں کیلئے محکمہ ٹرانسپورٹ کے چند عہدیدار ’’معمول ‘‘وصول کررہے ہیں۔ متحدہ اضلاع ورنگل اور کھمم میں بدعنوانیوں کے بڑے پیمانے پر الزامات عائد ہورہے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اوور لوڈ ریت کے ٹرکوں پر 4 ہزا رروپئے وصول کئے جارہے ہیں ، اگر یہ رقم نہ دی جائے تو گاڑی کو ضبط کرلیا جارہا ہے۔ اس میں سیاسی قائدین کی مداخلت ہونے کے الزامات عائد ہورہے ہیں۔ لیڈرس کی سفارشوں پر فٹنس رعایتیں بھی دی جارہی ہیں۔ تلنگانہ میں 3,834 اسکول ، کالج بسیںہیں۔ اسکول اور کالج بس کے سالانہ فٹنس کیلئے بالترتیب 2 ہزار تا 2,500 روپئے اور انجینئرنگ کالج کی بس کیلئے 4,500 روپئے وصول ہونے کی شکایت عام ہیں۔ تعلیمی اداروں اور عہدیداروں کے درمیان چند کمیونٹی نمائندے آپسی سازباز سے کام کررہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے دفاتر میں ایجنٹوں کا اہم رول ہے ۔ عوام ، قواعد کے مطابق درخواستیں داخل کرکے دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیںاور ایجنٹس کی خدمات حاصل کرنے پر ہی جلد اور آسانی سے کام ہورہا ہے۔ بہر حال ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ میں ایجنٹوں کا راج اور رشوت کا بازار گرم ہونے کی شکایتیں ہیں۔ عوام کی ریاستی حکومت سے اپیل ہے کہ اس پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے رشوت سے چھٹکارہ دلائے۔ 2