محکمہ پولیس شرمسار، سب انسپکٹر کو عدالتی تحویل

   

شادی کے نام دھوکہ دینے پر متاثرہ لڑکی کی شکایت پر کارروائی
حیدرآباد۔/3 اگسٹ، ( سیاست نیوز) ریاست میں محکمہ پولیس کو شرمسار کرنے والا ایک اور واقعہ منظر عام پر آیا۔ خواتین کے ساتھ ناجائز تعلقات اور انہیں اپنی ہوس کا شکار بنانا استعمال کرنا اور پھر چھوڑدینا اس طرح کے معاملات محکمہ پولیس سے وابستہ عہدیداروں میں اب عام بات دکھائی دے رہی ہے۔ خاتون کی عصمت ریزی کے معاملہ میں گرفتار معطل شدہ انسپکٹر ناگیشور راؤ کا واقعہ ابھی تازہ ہی تھا کہ ایک اور سب انسپکٹر وجئے کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ ملکاجگیری سی سی ایس سے وابستہ سب انسپکٹر وجئے کے خلاف ایک لڑکی نے شکایت کی ۔ مریال گوڑہ ون ٹاون پولیس میں لڑکی کی جانب سے کی گئی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس وجئے کو گرفتار کرلیا اور عدالتی تحویل میں دے دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سب انسپکٹر پولیس سی سی ایس ملکاجگیری وجئے نے ایک لڑکی سے محبت کی اور اس سے شادی کا وعدہ کیا۔ لڑکی سے شادی کا وعدہ کرنے کے بعد وجئے نے لڑکی سے اپنی جنسی خواہش کی تکمیل کی اور کئی دنوں تک ان دونوں میں بغیر شادی کے ازدواجی تعلقات تھے۔ شادی کا وعدہ تعطل کا شکار ہونے کے بعد اس نے دوسری لڑکی سے شادی کرلی۔ جب متاثرہ لڑکی کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے مسئلہ کو پولیس سے رجوع کردیا اور ون ٹاون پولیس اسٹیشن مریال گوڑہ پہنچ کر شکایت کردی۔ پولیس نے سب انسپکٹر وجئے کے خلاف مختلف دفعات دھوکہ دہی، عصمت ریزی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے وجئے کو گرفتار کرلیا اور عدالتی تحویل میں دے دیا۔ ع