مینٹننس کیلئے فنڈس کی کمی، گاڑیوں کو اسٹارٹ کرنے عوام دھکا لگانے پر مجبور
حیدرآباد ۔30۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں محکمہ پولیس کی تقریباً 4000 گاڑیاں ضروری مینٹننس خدمات سے محروم ہیں جس کے نتیجہ میں پولیس کو گاڑیوں کے استعمال میں دشواری پیش آرہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فنڈس کی کمی کے باعث گاڑیوں کی نگہداشت پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ یہ گاڑیاں باقاعدہ پٹرولنگ کے مقصد سے حاصل کی گئی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ پولیس کی 40 فیصد گاڑیاں جن میں MUV گاڑیاں بھی شامل ہیں، انہیں ان فٹ قرار دیا گیا ہے اور وہ پٹرولنگ کے لئے استعمال نہیں کی جاسکتیں۔ سابق بی آر ایس حکومت نے 4000 گاڑیوں کی خریدی کیلئے 500 کروڑ محکمہ پولیس کو منظور کئے تھے جن میں MUV گاڑیاں ، موٹر بائیکس اور دوسری شامل ہیں۔ پٹرولنگ کے مقصد سے ان گاڑیوں کو خریدنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ ان گاڑیوں میں سائرن ، جی پی ایس ، ریڈیو سسٹم اور دیگر سہولتیں موجود ہیں۔ گاڑیوں کا باقاعدہ مینٹننس محکمہ پولیس کے لئے چیلنج بن چکا ہے اور فنڈس کی کمی کے باعث اسپیر پارٹس تبدیل کرنے سے قاصر ہے۔ گزشتہ دنوں الو ارجن کی نامپلی کورٹ میں پیشی کے موقع پر علاقہ میں بعض پٹرولنگ گاڑیوں کو تعینات کیا گیا لیکن وہ اچانک فیل ہوگئیں۔ پولیس کی ایک گاڑی کو اسٹارٹ کرنے کیلئے عوام کو دھکا لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ نائیٹ پٹرولنگ کے دوران ڈرائیورس اور اسٹاف کو سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔ گاڑیوں کے مینٹننس کے فنڈس کے سلسلہ میں اعلیٰ حکام سے نمائندگی کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ 2014 میں اس وقت کی حکومت نے نئی گاڑیوں کیلئے 200 کروڑ جاری کئے تھے۔ 8 سال بعد 2022 میں مزید گاڑیوں کا اضافہ کیا گیا۔1