مخالف وقف قانون کی کامیابی کو روکنے چندرابابو نائیڈو اور نتیش کمار اہم رول ادا کریں

   

مجوزہ قانون کا مقصد وقف جائیدادوں کو ہڑپنا ہے، مودی حکومت کی مساعی پر محمد علی شبیر کی تنقید
حیدرآباد 5 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کے مشیر برائے اقلیت و پسماندہ طبقات محمد علی شبیر نے مرکز کی این ڈی اے حکومت کی جانب سے وقف بورڈس کے اختیارات میں کمی سے متعلق کوششوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اُنھوں نے کہاکہ مودی حکومت ملک بھر میں اوقافی جائیدادوں کو ہڑپنے کیلئے نئی قانون سازی کا منصوبہ رکھتی ہے جس کے تحت اوقافی جائیدادوں پر وقف بورڈس کے اختیارات کمزور ہوجائیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ ملک بھر کے تمام وقف بورڈس کو اختیارات سے محروم کرتے ہوئے لاکھوں کروڑ کی اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کو تحویل میں لینا مودی حکومت کا مقصد ہے۔ 1954 ء میں پہلی مرتبہ وقف ایکٹ وضع کیا گیا تھا جس کے بعد 1995 ء میں ضروری ترمیمات کی گئیں۔ یو پی اے دور حکومت میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے 2013 ء میں ضروری ترمیمات کرتے ہوئے جامع قانون کی شکل دی گئی تھی۔ موجودہ قانون کے تحت وقف بورڈ کو اپنی دستاویزات کی بنیاد پر اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے اختیارات حاصل ہیں اور وقف بورڈ کے دعوے کو عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے وقت جبکہ ملک بھر میں اوقافی جائیدادوں پر قابضین کی بُری نظریں ہیں، مرکزی حکومت اوقافی جائیدادوں کی تباہی کو سرکاری منظوری دینے کے لئے قانون میں ترمیم کا منصوبہ بنارہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ملک میں پہلے ہی اوقافی جائیدادوں کی صورتحال دگرگوں ہے۔ تقریباً 8.7 لاکھ اوقافی جائیدادیں ہیں جن کی مالیت 9.4 لاکھ کروڑ سے زائد ہے۔ اوقافی جائیدادوں کی آمدنی میں اضافہ کے ذریعہ مسلمانوں کی حالت میں سدھار کے اقدامات کے بجائے مودی حکومت اوقافی جائیدادوں کی تباہی کے درپے ہے۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ کانگریس پارٹی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مجوزہ قانون کی مخالفت کرے گی۔ اِس سلسلہ میں چیف منسٹر تلنگانہ کے ذریعہ راہول گاندھی سے نمائندگی کی جائے گی۔ محمد علی شبیر نے این ڈی اے میں شامل چندرابابو نائیڈو اور نتیش کمار سے مطالبہ کیاکہ وہ مودی حکومت کو اوقافی جائیدادوں کی تباہی کی ہرگز اجازت نہ دیں۔ اُنھوں نے کہاکہ چندرابابو نائیڈو اور نتیش کمار دونوں سیکولرازم اور اقلیتوں کی بھلائی کا دعویٰ کرتے ہیں اور وقت آچکا ہے کہ مسلمانوں کی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے مرکز کو نئی قانون سازی سے روکنے کے اقدامات کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ نائیڈو اور نتیش کمار کو دیگر ہمخیال پارٹیوں اور ریاستی حکومتوں سے مشاورت کے ذریعہ مخالف وقف قانون کو منظور ہونے سے روکنا چاہئے۔ 1