مدھیہ پردیش میں حجاب پر پابندی کیلئے حکومت کی کوئی تجویز نہیں

   

دتیا ۔ مدھیہ پردیش کے آبائی ضلع دتیا کے ایک کالج میں حجاب کے سلسلے میں تنازعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیر داخلہ ڈاکٹر مشرا نے کہا کہ ریاست میں اس طرح کا مغالطہ نہیں پھیلانا چاہیے ۔ ڈاکٹر مشرا نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ دتیا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی زندہ مثال ہے ۔ پی جی کالج دتیا کے ایک طالب علم کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کلکٹر کو پرنسپل کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے کی جانکاری کے سلسلے میں ہدایات دی ہیں۔ ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ حجاب پر پابندی کے حوالے سے کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے ۔ انہوں نے اپیل کی کہ ریاست میں کوئی مغالطہ نہ پھیلایا جائے ۔ واضح رہے کہ کل مبینہ طور پر حجاب پہن کر کچھ طالبات دتیا کے کالج پہنچی تھیں۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہو رہا ہے ، جس میں بجرنگ دل کے کچھ کارکن یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ کچھ لڑکیاں حجاب پہن کر تعلیمی اداروں میں آ رہی ہیں اور یہ آئین کے خلاف ہے ۔ اس مبینہ معاملے پر بجرنگ دل کے کارکن بھی دھرنے پر بیٹھ گئے ۔ اس کے بعد کالج کے پرنسپل نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ کسی مخصوص کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی طالبات یا حجاب جیسے کسی دوسرے لباس میں کالج میں داخل نہ ہوں۔ اس حکم کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ معاملہ اور بھی گرم ہو گیا۔