مدینہ منورہ قرب الٰہی کا مرکز 

   

حافظ صابر پاشاہ

کائناتِ رنگ و بو کی وسعتوں میں جب نگاہِ فکر دوڑتی ہے تو ایک حقیقت پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ خالقِ کائنات نے اپنی حکمتِ کاملہ کے تحت بعض کو بعض پر فضیلت و برتری عطا فرمائی ہے۔ انسانوں میں انبیائے کرام علیہم السلام کو مقامِ رفعت بخشا، پھر اہلِ علم و تقویٰ کو امتیاز عطا کیا؛ مگر یہ فضیلت کا سلسلہ صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ مقامات و امکنہ بھی اس تقسیمِ الٰہی میں شریک ہیں۔ انہی مقدس مقامات میں ایک درخشاں نام مدینۂ منورہ کا ہے ۔ یہی وہ بابرکت سرزمین جسے ربِ کائنات نے اپنی خاص رحمتوں، برکتوں اور نسبتِ رسول ﷺ سے شرفِ دوام عطا فرمایا۔ مدینۂ منورہ محض ایک شہر نہیں بلکہ ایمان، محبت اور قربِ الٰہی کا ایسا مرکز ہے جہاں تاریخ کے سنہرے اوراق رقم ہوئے۔ یہی وہ مقدس دھرتی ہے جہاں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ہجرت فرمائی، جہاں انصار کی بے مثال قربانیاں تاریخ کا حصہ بنیں، اور جہاں سے اسلام نے دنیا کے افق پر اپنی روشنی پھیلائی۔احادیثِ مبارکہ میں مدینۂ منورہ کے بے شمار فضائل وارد ہوئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس شہر کے لیے برکتوں کی دعائیں فرمائیں، اس کی محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا، اور یہاں قیام و وفات کو سعادت بتایا۔ مسجدِ نبوی میں ایک نماز کا ثواب ہزار نمازوں کے برابر ہے، اور اس شہر کی فضا میں ایک روحانی سکون اور قلبی طمانیت ودیعت کی گئی ہے۔
حج ایک عظیم عبادت اور زندگی کا اہم ترین روحانی سفر ہے، جس میں بندہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوکر مغفرت و قربت کی منازل طے کرتا ہے۔ لیکن اس مبارک سفر کی تکمیل اس وقت مزید حسین اور بامعنی ہو جاتی ہے جب بندہ مدینۂ منورہ کی حاضری نصیب کرے اور روضۂ اقدس پر حاضری دے کر سرورِ کائنات ﷺ کی بارگاہ میں درود و سلام پیش کرے۔ اہلِ ایمان کے نزدیک یہ سعادت ایسی ہے جس کے بغیر سفرِ حج ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے عازمینِ حج اپنے اس مقدس سفر میں مدینۂ منورہ کی حاضری کو ضرور شامل کریں ،خواہ حج سے پہلے یا بعد میں اور روضۂ رسول ﷺ پر حاضر ہو کر اپنی عقیدت و محبت کا نذرانہ پیش کریں۔یہ حاضری محض ایک رسم نہیں بلکہ ایمان کی تجدید، محبتِ رسول ﷺ کے اظہار اور روحانی تعلق کی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دلوں کو سکون ملتا ہے، آنکھوں کو اشکِ محبت نصیب ہوتے ہیں، اور بندہ اپنے آپ کو حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر محسوس کرتا ہے۔یہی وہ دربار ہے جہاں پہنچ کر دلوں کی دنیا بدل جاتی ہے، آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں اور زبان بے اختیار درود و سلام پڑھنے لگتی ہے۔ عاشقانِ رسول ﷺ کے نزدیک روضۂ اقدس کی حاضری دنیا کی ہر نعمت سے بڑھ کر ہے۔مدینہ کی حاضری دراصل ادب کا سفر ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام عازمینِ حج کو حجِ مبرور نصیب فرمائے اور مدینۂ منورہ کی حاضری کی سعادت سے بھی مشرف فرمائے، تاکہ ان کا یہ سفر دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن جائے۔ آمین۔