نئی دہلی : ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق اوپنر اور اتراکھنڈ کرکٹ ٹیم کے کوچ وسیم جعفر نے اتراکھنڈ کی سلکشن کمیٹی اور کرکٹ اسوسی ایشن میں مذہب کی بنیاد پر ٹیم کو منقسم کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے سلکشن کمیٹی اور کرکٹ اسوسی ایشن کے سکریٹری ماہم ورما کی انتظامیہ میں شمولیت کی وجہ سے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔ اترکھنڈ کرکٹ اسوسی ایشن نے مذہب کی بنیاد پر ٹیم کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا جعفر پر الزام لگایا لیکن وسیم جعفر نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ اگر میں ٹیم کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرتا تو اسوسی اشین خود ان کے خلاف کارروائی کرتی تھی اور مجھے اس معاملہ میں استعفیٰ دینے کی کیا ضرورت پڑی ۔ تنازعہ کے بعد وسیم جعفر نے کہا کہ انہوں نے ٹیم کیلئے سخت محنت کی جس کے بعد انہیں اس طرح کا الزام برداشت کرنا پڑرہا ہے جو کہ کافی تکلیف دہ ہے ۔ وسیم جعفر نے یہ بھی کہا کہ وجئے ہزارے ٹرافی کیلئے منتخب کردہ ٹیم میں کپتان سمیت جملہ 11کھلاڑی تبدیل ہوگئے تھے اور انہیں اس معاملہ میں کوئی علم نہیں تھا ۔ وسیم جعفر نے مزید کہا کہ ان حالات میں وہ محسوس کرنے لگے کہ ٹیم کے کوچ کے عہدہ پر فائز رہنے ان کیلئے۔ وسیم جعفر کو گذشتہ سال ماہ جون میں اتراکھنڈ کا کوچ مقرر کیا گیا تھا ۔وسیم جعفر نے ایک ٹوئٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے جئے بستا کو ٹیم کی قیادت کیلئے موزوں قرار دیا تھا نہ کہ اقبال کو کپتان بنانے کی سفارش کی تھی ۔