مرکز میں بہتر حکمرانی سے ریاستوں کی یکساں ترقی ممکن: کے سی آر

   

برائی کی طاقتوں کو سبق سکھانے کا وقت آگیا، مفت اسکیمات کی مخالفت افسوسناک، وقار آباد میں مختلف تقاریب میں چیف منسٹر کی شرکت
حیدرآباد ۔16۔اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مرکز کی نریندر مودی زیر قیادت بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکام بی جے پی حکومت کو سبق سکھانے کا وقت آچکا ہے ۔ گزشتہ 8 برسوں میں بی جے پی حکومت نے عوام کو دھوکہ دیا ہے ۔ وعدوں کی تکمیل میں ناکام مرکزی حکومت آج ریاستوں کی فلاحی اسکیمات پر نکتہ چینی کر رہی ہے۔ چیف منسٹر نے آج وقار آباد ضلع کا دورہ کیا اور وہاں 61 کروڑ روپئے سے تعمیر کردہ عصری سہولتوں سے آراستہ کلکٹریٹ عمارت کا افتتاح انجام دیا ۔ اس موقع پر ریاستی وزراء پرشانت ریڈی ، سبیتا اندرا ریڈی ، چیف سکریٹری سومیش کمار ، رکن پارلیمنٹ چیوڑلہ رنجیت ریڈی ، رکن کونسل وانی دیوی اور مقامی عوامی نمائندوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ چیف منسٹر نے وقار آباد میں ٹی آر ایس کے نئے تعمیر کردہ دفتر کا افتتاح انجام دیا ، بعد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس نے تلنگانہ تحریک کے دوران عوام سے جو وعدے کئے تھے ، اقتدار ملنے کے بعد ان کی تکمیل کی ہے۔ ہم نے رنگا ریڈی ضلع کے دفاتر وقار آباد میں قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کی تکمیل کی گئی ہے۔ وقار آباد میں میڈیکل کالج اور ڈگری کالج کی منظوری دی گئی ۔ تلنگانہ کی تشکیل سے قبل ضلع میں کافی پسماندگی تھی لیکن ٹی آر ایس حکومت نے ترقی کے نئے دور کا آغاز کیا ہے ۔ تلنگانہ کی تشکیل سے رنگا ریڈی ضلع میں اراضیات کی قیمتوں میں کمی کا اندیشہ ظاہر کیا تھا لیکن یہ بات غلط ثابت ہوئی ۔ آندھراپردیش اور کرناٹک سے زیادہ تلنگانہ میں اراضیات کی قیمتیں ہیں۔ تلنگانہ میں ایک ایکر اراضی فروخت کرنے پر پڑوسی ریاستوں میں تین ایکر اراضی خریدی جاسکتی ہے۔ رائچور کے عوام اور وہاں کے عوامی نمائندے علاقہ کو تلنگانہ میں ضم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی ترقی اور فلاحی اسکیمات سے متاثر ہوکر سرحدی اضلاع کے عوام تلنگانہ میں شمولیت کی مانگ کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ زرعی شعبہ کو بلا وقفہ 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ مشن بھگیرتا کے تحت ہر گھر کو پانی سربراہ کیا گیا ۔ کسانوں کے لئے رعیتو بندھو ، رعیتو بیمہ اسکیم متاثر کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے تحفظ کی ذمہ داری نوجوانوں کسانوں اور دانشوروں پر عائد ہوتی ہے۔ مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے مفت اسکیمات کی مخالفت کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو مفت برقی کی سربراہی کی مخالفت کی جارہی ہے اور زرعی شعبہ کو برقی میٹرس لگانے کی تجویز مرکز نے پیش کی ہے۔ چیف منسٹر نے عوام سے کہا کہ اگر وہ بی جے پی کے جھنڈے کو دیکھ کر دھوکہ کھا جائیں گے تو مفت برقی کی سربراہی باقی نہیں رہے گی۔ مرکزی حکومت خود عوام کی بھلائی کیلئے کچھ نہیں کر رہی ہے ۔ دوسری طرف مفت اسکیمات کو ختم کرنے کی صلاح دی جارہی ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ ہر گاوں میں مرکز کی بی جے پی حکومت کے بارے میں مباحث کی ضرورت ہے۔ نریندر مودی نے اس ملک کے لئے کیا کیا ، عوام کو بتایا جائے؟ ۔ کسانوں کو مفت برقی کی سربراہی ختم کرتے ہوئے صنعت کاروں کو 20 لاکھ کروڑ کی رعایت دینے کا منصوبہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت صنعتی گھرانوں کی بھلائی کیلئے کام کر رہی ہے۔ چیف منسٹر نے پکوان گیس اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا حوالہ دیتے ہوئے عوام سے اضافی بوجھ کے بارے میں سوال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ہر شعبہ ترقی کر رہا ہے۔ صرف تلنگانہ کی ترقی کافی نہیں ہے۔ ملک کی ترقی بھی ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے بی جے پی قائدین میں ہمت ہے تو دہلی جاکر پالمور رنگا ریڈی پراجکٹ کی منظوری حاصل کریں۔ مودی کو دیکھتے ہی بی جے پی قائدین ڈرنے لگتے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ لاکھ رکاوٹیں پیدا کی جائیں ، پالمور رنگا ریڈی پراجکٹ بہر صورت مکمل کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مرکز میں بہتر حکومت کی صورت میں ریاست میں بھلائی اور ترقی ممکن ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ملک کی تمام ریاستوں میں یکساں ترقی کیلئے برائی کی طاقتوں کو سبق سکھانے کا وقت آچکا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی جے پی کو عوام کی بھلائی سے زیادہ صرف مذہبی سیاست سے دلچسپی ہے۔ چیف منسٹر نے 5 ایکر پر 235 کروڑ سے تعمیر کئے جانے والے میڈیکل کالج کا سنگ بنیاد رکھا ۔ ر