مرکز کی نئی برقی پالیسی کے خلاف ملازمین کا مشترکہ احتجاج

   

حکومت پر عوام کو نقصان اور حاشیہ بردار کمپنیوں کو فائدہ پہونچانے کا الزام
حیدرآباد۔8 ۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ میں برقی ملازمین نے آج مرکزی حکومت کی نئی برقی پالیسی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ اگر مرکزی حکومت کی نئی برقی پالیسی کو ریاست میں نافذ کرنے اقدامات کئے جاتے ہیں تو غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا آغاز کیا جائیگا۔ تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ کے علاوہ تلنگانہ اسٹیٹ نادرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ کے ملازمین نے آج ریاست بھر میں مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج منظم کرکے نئی برقی پالیسی کو عوام اور ملازمین دونوں کیلئے نقصاندہ قراردیتے ہوئے کہا کہ نئی برقی پالیسی کے ذریعہ بالواسطہ محکمہ برقی کو خانگیانے کی سمت پیشرفت کر رہی ہے اور ایسا کرنا ملک کی خانگی کمپنیوں کے ہاتھوں میں برقی پیداوار کو کھلونا بنانے کے مترادف ہے۔ ملازمین نے منٹ کمپاؤنڈ میں احتجاجی دھرنے کے دوران مرکز پر الزام عائد کیا کہ حکومت صنعتکار دوستوں کو فائدہ پہنچانے عوام نقصان پہنچانے والے قانون بنا رہی ہے۔ احتجاجی ملازمین نے بتایا کہ اگر ان کے مطالبات کی یکسوئی نہیں کی جاتی اور حکومت اس منصوبہ سے دستبرداری اختیار نہیں کرتی ہے تو وہ خدمات کا بائیکاٹ کرکے احتجاج میں شدت پیدا کریں گے۔ ریاستی حکومت کو بھی برقی ملازمین نے مشورہ دیا کہ وہ مرکز کی نئی پالیسی پر عمل سے انکار کرکے ریاستی برقی ملازمین کے مفادات کا تحفظ کرے کیونکہ مرکز ان اقدامات کے ذریعہ محکمہ برقی کو خانگیاتے ہوئے ملازمین کو ٹاٹا ‘ ریلائنس اور اڈانی جیسی کمپنیوں کے ملازمین میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ برقی ملازمین کی تمام تنظیموں نے مشترکہ احتجاج منظم کرکے کہا کہ ملازمین کے مفادات کی بجائے اگر ریاستی حکومت مرکز کی پالیسی پر عمل کے اقدامات کرتی ہے تو ریاست بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ حکومت تلنگانہ اور دیگر سیاسی کے قائدین سے ملازمین نے اپیل کی کہ نئی برقی پالیسی کے نقصانات کا جائزہ لیں اوراس کی مخالفت کے ذریعہ عوام میں شعور اجاگر کرکے انہیں نقصانات سے واقف کروائیں۔م