مرکزی بجٹ میں معیشت کی ابتر صورتحال کو چھپانے کی کوشش

   

ریاستوں کے ساتھ ناانصافی کی شکایت۔بی ونود کمار کا ردِعمل
حیدرآباد۔یکم؍فروری، ( سیاست نیوز) نائب صدرنشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ نے مرکزی حکومت کے بجٹ 2023-24 کو ویژن سے عاری اور ملک کو درپیش حقیقی مسائل کو نظرانداز کرنے کی کوشش قرار دیا۔ مرکزی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ونود کمار نے کہا کہ وزیر فینانس نے انتخابات سے قبل اپنے آخری بجٹ میں معیشت کی ابتر صورتحال کے حقائق اور مہنگائی کے نتیجہ میں عام آدمی کی مشکلات کو نظرانداز کردیا ہے۔ ترقی معکوس اور بیروزگاری میں اضافہ کا کوئی ذکر بجٹ میں شامل نہیں ہے۔ ونود کمار نے کہا کہ بجٹ میں ملک کی معیشت کی ابتر صورتحال کی بنیادی وجوہات کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ صرف عوامی جلسوں تک محدود ہوچکا ہے۔ ملک میں 28 ریاستیں اور 8 مرکزی زیر انتظام علاقے ہیں لیکن مرکزی حکومت نے تمام کیلئے ایک ہی رویہ اختیار کیا جبکہ ہر ریاست کے مسائل مختلف ہوتے ہیں۔ مرکزی بجٹ کی تیاری کیلئے ریاستوں کے وزرائے فینانس سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں سے مشاورت کے ذریعہ بجٹ کی تیاری میں ملک کی بہتر ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے تلنگانہ کیلئے ایک بھی میڈیکل کالج کی منظوری نہیں دی گئی اور اب نرسنگ کالجس کے معاملہ میں بھی ناانصافی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر انوسمنٹ، بیروزگاری، نوجوانوں کے مسائل کو فراموش کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے موجودہ بحران کو بجٹ تقریر میں چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔ر
’’ آنکھوں کی روشنی پروگرام ‘‘ کے تحت 19 لاکھ افراد کی آنکھوں کا معائنہ
حیدرآباد۔یکم؍ فروری، ( سیاست نیوز) حکومت کے’’ آنکھوں کی روشنی‘‘ پروگرام کے تحت ریاست بھر میں ابھی تک 19 لاکھ 6 ہزار 182 افرادکی آنکھوں کا معائنہ کیا گیا۔ 100 دن تک جاری رہنے والے اس پروگرام کا یکم فروری سے آغاز ہوا ہے۔ محکمہ صحت نے اس پروگرام کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کئے جس کے مطابق گذشتہ تین دن میں 4 لاکھ 20 ہزار 148 افراد میں عینکیں تقسیم کی گئیں۔ ایک دن میں 2 لاکھ 3 ہزار افراد کی آنکھوں کے معائنے کئے گئے اور 36876 ریڈنگ گلاسیس تقسیم کئے گئے۔ 24163 افراد کیلئے عینکیں تیار کی جارہی ہیں۔ معائنوں کے دوران 11 لاکھ 96 ہزار 863 افراد میں آنکھوں کا کوئی بھی عارضہ نہیں پایا گیا۔ر