مسئلہ یوکرین سیاسی مفاہمت سے طئے کیا جائے : جن پنگ

   

بیجنگ : چین کے صدر ژی جن پنگ نے کہا ہے کہ آج تک چین اور روس کے تعلقات کی ترقی کی اپنی گہری تاریخی منطق ہے، گزشتہ 10 سالوں کے دوران چین اور روس نے محاذ آرائی نہ کرنے اور کسی تیسرے فریق کو نشانہ نہ بنانے کی بنیاد پر دوطرفہ تعلقات کو استحکام اور فروغ دیا ہے جس نے باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور مشترکہ تعاون پر مبنی ایک نئی قسم کے بڑے ممالک کے تعلقات کا نمونہ قائم کیا ہے۔گزشتہ روز صدر ژی جن پنگ نے روسی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے دوران نشاندہی کی کہ یوکرین کے مسئلے پر پرامن اور معقول آوازیں مسلسل جمع ہو رہی ہیں اور زیادہ تر ممالک کشیدگی کم کرنے کی حمایت کرتے ہیں،تاریخ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو تنازعات بالآخر بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین یوکرین کے مسئلے کے سیاسی حل کے لئے اپناتعمیری کردار جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔اس حوالے سے صدر پوتین نے کہا کہ روس نے یوکرین بحران کے سیاسی حل کے حوالے سے چین کا مؤقف نامی دستاویز پر غور کیا ہے،روس امن مذاکرات کے لیے تیارہے اور اس سلسلے میں چین کے تعمیری کردار کا خیر مقدم کرتا ہے۔صدر پوتین نے ایک دستخط شدہ مضمون میں کہا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ میں نے صدر شی جن پنگ کے ساتھ تجارتی حجم کو 200 ارب ڈالر تک بڑھانے کا جو ہدف مقرر کیا تھا ،وہ 2024 کے بجائے اسی سال حاصل ہوجائے گا۔